رحمت کا معاملہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ اے خدا کے رسول، آپ مشرکوں کے خلاف بد دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا: "میں اس لیے نہیں بھیجا گیا ہوں کہ لوگوں پر لعنت کروں، بلکہ میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ " عن أبي هريرة قال: قيل: "يا رسول الله، ادعُ على المشركين." قال: "إني لم أُبعث لعانًا، وإنما بُعِثتُ رحمةً." صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلت والأدب۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جب لوگوں کو ایک خدا کا پرستار بننے کی طرف بلایا تو وہ آپ کے دشمن ہو گئے، اور وہ آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ستانے لگے۔
آپ کے ساتھیوں نے چاہا کہ لوگوں کے خلاف بد دعا کی جائے، مگر پیغمبرِ اسلام نے اس کو پسند نہیں فرمایا۔ سچا مصلح وہ ہے جو ہر حال میں مثبت طرزِ فکر پر قائم رہے، وہ کسی حال میں بھی منفی ذہنیت میں مبتلا نہ ہو۔ یہی مصلح کا کردار ہے۔ وہی انسان سماجی اصلاح کا کام کر سکتا ہے جس کا سینہ اتنا کشادہ ہو کہ وہ ہر حال میں لوگوں کا خیر خواہ بنا رہے۔
لوگوں کے حق میں اس کی رحمت و شفقت کسی حال میں ختم نہ ہونے پائے۔ دوسروں کے رویّے کی پرواہ کیے بغیر وہ اپنے اصلاحی مشن پر قائم رہے۔ اگر ایک شخص آپ کے خلاف زیادتی کرے تو آپ کے لیے کرنے کا یہی ایک کام نہیں ہے کہ آپ اس سے متنفر ہو جائیں اور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں۔ آپ کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑا ایک اور کام ہے، اور وہ یہ کہ آپ ایک طرفہ طور پر اس کی اصلاح کے خواہش مند بنے رہیں۔
آپ دل سے اس کی بہتری چاہیں، اس کو متاثر کرنے کی ضروری تدبیریں کریں، اس کے حق میں خدا سے اچھی دعائیں کریں۔ یہ بھی ایک عمل ہے، یہ بھی ایک تدبیر ہے، بلکہ وہ ایسے موقع کے لیے زیادہ اچھی تدبیر ہے۔ بہتر معاشرہ وہ ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے سچے خیر خواہ ہوں۔ ان کا خیر خواہی کا جذبہ اتنا طاقتور ہو کہ وہ ہر حال میں باقی رہے۔
دوسروں کا مخالفانہ رویہ بھی اس کو متزلزل نہ کر سکے۔ جو لوگ اپنے سینے میں اس قسم کی خیر خواہی کی پرورش کریں، وہ خود اپنی انسانیت کو بلند کر رہے ہیں۔ یہ خیر خواہی اس بات کی ضامن ہے کہ سماج کبھی بگاڑ کا شکار نہ ہو۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 308۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.