نرم سلوک: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نرمی سے محروم رہا، وہ بھلائی سے بھی محروم رہے گا۔ عن جرير عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من يُحْرَمُ الرفقَ يُحْرَمُ الخيرَ". ایک اور حدیث میں اس طرح آیا ہے کہ حضرت عائشہ سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے عائشہ! اللہ نرم ہے، اور وہ نرمی کو پسند کرتا ہے"۔
اور وہ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جس کو وہ سختی پر نہیں دیتا، اور نہ کسی اور چیز پر دیتا ہے۔ عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "يا عائشة! إن الله رفيقٌ يحب الرفق، ويُؤتي على الرفق ما لا يُؤتي على العُلُف، وما لا يُؤتي على سواه". صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلة والأدب۔
نرمی انسان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے؛ نرمی کے ذریعے لوگوں کے دل جیتے جا سکتے ہیں، اور جب لوگوں کے دل جیت لیے جائیں تو اس کے بعد جیتنے کے لیے کوئی اور چیز باقی نہیں رہتی۔ آپ جب لوگوں کے درمیان نرمی سے بولیں، اور ان سے نرمی کا معاملہ کریں، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دل میں آپ کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، وہ آپ کی عزت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ماحول کے اندر ایک ایسی فضا بنتی ہے جو ہر لحاظ سے آپ کے حق میں ہوتی ہے۔ آپ کسی خارجی رکاوٹ کے بغیر اپنا ہر کام انجام دینے میں کامیاب رہتے ہیں۔
اس کے برعکس، جب آپ لوگوں سے سخت انداز میں بات کریں، اور لوگوں سے معاملہ کرنے میں سختی کا رویہ اپنائیں، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پورے ماحول میں آپ کے خلاف فضا پیدا ہو جائے گی۔ لوگ آپ کو دشمن کی نظر سے دیکھنے لگیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ جو کام بھی کرنا چاہیں گے، اس میں آپ کے لیے خارجی رکاوٹیں کھڑی ہو جائیں گی۔ ماحول کے غیر ہمدردانہ رویے کی وجہ سے آپ کا آسان کام بھی مشکل کام بن جائے گا۔
اس دنیا میں نرمی کا کوئی بدل نہیں، کوئی بھی دوسری ایسی چیز نہیں جو نرمی کی کمی کی تلافی کرے۔ نرم سلوک والا آدمی اپنے ماحول میں اس طرح رہتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ پھول جیسا سلوک کرتے ہیں، اور سخت آدمی اپنے ماحول میں اس طرح رہنے پر مجبور ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ کانٹوں کے درمیان رہ رہا ہو۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 306۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.