Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Gheebat aur bohtaan

Urdu · 4 min

غیبت اور بہتان۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ " لوگوں نے کہا کہ خدا اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرو جو اس کو ناپسند ہو۔

کہا گیا: "اے خدا کے رسول! اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جس کا میں نے ذکر کیا—" آپ نے فرمایا: "اگر اس کے اندر وہ عیب ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ عیب اس میں نہیں ہے تو تم نے اس کے اوپر الزام لگایا۔ " عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أتدرون ما الغيبة؟ قالوا: الله ورسوله أعلم." قال: "ذكرك أخاك بما يكره." قيل: "أفرأيت إن كان في أخي ما أقول؟

" إن كان فيه ما تقول فقد اغتبطت، وإن لم يكن فيه فقد بهتته. صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلة والأدب۔ صحت مند معاشرے کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں، ان میں سے ایک اہم چیز یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی خوبیوں کا تو خوب چرچا کریں، لیکن وہ ایک دوسرے کی کمیوں اور برائیوں کا چرچا کرنے سے پرہیز کریں۔ خوبیوں کا چرچا کرنے سے معاشرے میں مثبت قدروں کو فروغ ملتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر لوگوں کی برائیوں اور کمزوریوں کا چرچا کیا جانے لگے تو معاشرے میں منفی قدروں کی حوصلہ افزائی ہونے لگے گی۔ لوگوں کے شخصی عیوب کے چرچا کرنے کا نام غیبت ہے۔ اگر آپ کسی کے اندر کوئی شخصی عیب دیکھیں تو آپ کو چاہیے کہ اس سے مل کر تنہائی میں اس کو نصیحت کریں، لیکن مجلسوں میں اس کا چرچا کرنا سخت قابلِ اعتراض بات ہے۔ اس سے بھی زیادہ سنگین برائی یہ ہے کہ آپ کسی کے بارے میں وہ بات کہیں جو اس کے اندر سرے سے موجود نہیں۔

اس قسم کے عمل کا انجام الزام تراشی یا بہتان ہے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑا جرم ہے۔ کسی پر بے بنیاد الزام لگاتے ہوئے آدمی کو سوچنا چاہیے کہ یہ ایک دو طرفہ معاملہ ہے۔ یعنی وہ الزام اگر فریقِ ثانی پر نہیں لگا تو وہ خود کہنے والے کی طرف لوٹ جائے گا۔

اسلامِ تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 305۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.