Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Haqeeqi shakhsiyat

Urdu · 3 min

حقیقی شخصیت۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔ عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الله لا ينظر إلى صوركم وأموالكم، ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم." صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلة والأدب۔ فطرت کے نقشے میں کون انسان اہم ہے اور کون انسان غیر اہم؟

جواب یہ ہے کہ جو انسان اپنی داخلی شخصیت کے اعتبار سے اچھا ہے، وہی حقیقی معنوں میں اچھا انسان ہے۔ اور جو آدمی اپنی داخلی شخصیت کے اعتبار سے برا ہو، وہ حقیقت کی نگاہ میں برا ہے، خواہ ظاہری طور پر اس نے کتنا ہی خوشنما لباس کیوں نہ پہن رکھا ہو۔ ایک ظاہر وہ ہے جو لباس اور آرائش کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ایک اور ظاہر ہے جو پروپیگنڈے کے ذریعے بنتا ہے۔

دونوں ہی قسم کے ظاہر حقیقت کی نظر میں بے قیمت ہیں۔ جو لوگ اس قسم کے ظواہر پر کھڑے ہوں، وہ اپنے لیے بھی بے فائدہ ہیں اور سماج کے لیے بھی بے فائدہ۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کے اندر اعلیٰ انسانی صفات پائی جائیں، جو ایک اصول پسند انسان ہو، جو اخلاقی قدروں کو اپنائے ہوئے ہو، جس کے دماغ میں مثبت سوچ ہو اور جس کے دل میں مثبت جذبات بھرے ہوئے ہوں۔ ایسا انسان فطرت کا مطلوب انسان ہے۔

اور یہی وہ لوگ ہیں جو کسی سماج کو حقیقی معنوں میں کامیاب سماج بناتے ہیں۔ آدمی اگر اندر سے خالی ہو اور صرف ظاہری طور پر وہ اپنے آپ کو خوشنما بنا لے، تو اس سے صالح اعمال کا صدور نہیں ہو سکتا۔ وہ دیکھنے میں اچھا ہوگا مگر برتنے میں برا۔ صالح اعمال کا صدور صرف اس انسانی شخصیت سے ہوتا ہے جس کا اندرونی وجود بھی صالح اور پاک ہو۔

عمل سے خالی انسان گویا کہ صرف ایک اسٹیچو ہے۔ سچا انسان صرف وہ ہے جو عمل کے وقت عمل کا ثبوت دے سکے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 304۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.