Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Neki aur badi

Urdu · 4 min

نیکی اور بدی۔ حدیث میں آیا ہے کہ نواس ابنِ سمان انصاری نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھا، آپ نے جواب دیا: "نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے، اور بدی وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تمہیں ناپسند ہو کہ لوگ اس سے باخبر ہوں۔ " عن النواس ابنِ سمعان الانصاری قال: سألتُ رسولَ الله صلى الله عليه وسلم عن البرِّ والإثم، فقال: البرُّ حسنُ الخُلُقِ، والإثمُ ما حاكَ في صدرك وكرهتَ أن يطّلع عليه الناس. صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلة والأدب۔

سماج کا بہترین شہری کون ہے؟ یہ وہ انسان ہے جس کی فطرت زندہ ہو اور اس کے اندر نیکی اور بدی کا احساس موجود ہو۔ وہ ہر معاملے میں نیکی کے رخ پر چلے، اور بدی کی روش سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ نیکی اور بدی کا شعور انسان کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں ہے؛ وہ انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر موجود ہے۔

یہ وہی چیز ہے جس کو ضمیر کہا جاتا ہے۔ ضمیر ہر انسان کے اندر گویا فطرت کا معلم ہے۔ انسان اگر اپنے ضمیر کی آواز کو نہ دبائے تو وہی اس کی رہنمائی کے لیے کافی ہو جائے گی۔ ضمیر کے اندر ہونے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی جب نیکی کرے تو اس پر خوشی حاصل ہو۔

سچ بولنا، امانت کو ادا کرنا، پڑوسی کا حق ادا کرنا، دوسروں کی خدمت کرنا—یہ سب نیکی کے عمل ہیں۔ باضمیر انسان جب اس قسم کا کوئی عمل کرتا ہے تو اس کی یہ نقد قیمت اس کو ملتی ہے کہ اس کا دل سکون و اطمینان سے بھر جاتا ہے۔ بدی والے اعمال کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ آدمی جب کوئی غلط کام کرتا ہے تو ایسا کام کرنے کے لیے اس کو اپنے ضمیر کے خلاف چلنا ہوتا ہے۔

اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بدی کا کام کر کے آدمی کو خوشی نہیں ہوتی؛ بدی کا کام اس کے دل کے بوجھ کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ ایک طرف اس کا دل ساتھ نہیں دیتا، اور دوسری طرف اس کو یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں دوسرے لوگ اس سے باخبر نہ ہو جائیں، جس کے نتیجے میں اس کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔ نیکی کا نقد فائدہ دل کا سکون ہے، اور بدی کا نقد انجام دل کی بے سکونی۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 302۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.