اجتماعی زندگی: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آپس میں بغض نہ رکھو، اور آپس میں حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو، اور خدا کے بندو، بھائیوں کی طرح رہو"۔ اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو 3 دن سے زیادہ چھوڑے رہے۔ عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا تباغضوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا؛ وكونوا عباد الله إخوانًا"۔ ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث.
صحیح مسلم، کتاب البرّ والصلة والأدب۔ انسان سماج کے اندر کس طرح رہے، اس کا ایک فطری نمونہ خدا نے ہر ایک کی قریبی زندگی میں قائم کر دیا ہے۔ یہ بھائی بہن کا نمونہ ہے: ہر گھر میں بھائی اور بہن ہوتے ہیں، ہر آدمی خود اپنی فطرت کے زور پر اپنے بھائی اور بہن کا خیرخواہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے بھائی اور بہن سے محبت کرتا ہے۔
ہر آدمی بھائی اور بہن کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے۔ وہ بھائی اور بہن کی ضرورت کو خود اپنی ضرورت کی طرح دیکھتا ہے۔ یہی چیز ہے جو ہر گھر کو سکون کا گہوارہ بنا دیتی ہے۔ آدمی جس طرح اپنے گھر میں رہتا ہے، اسی طرح اس کو سماج میں رہنا ہے۔
ہر آدمی کا اپنا گھر وہ فطری ماڈل ہے جو اس کو بتاتا ہے کہ وہ سماج میں کس طرح رہے۔ اگر ہر آدمی باہر کے ماحول میں بھی اسی طرح رہے جس طرح وہ اپنے گھر میں رہتا ہے، تو پورا سماج امن اور رحمت کا سماج بن جائے گا۔ یہ فطری ماڈل کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے خیرخواہ ہوں، ان کا سینہ ایک دوسرے کے خلاف بغض سے خالی ہو، لوگ ایک دوسرے کی ترقی پر خوش ہوں۔
سماج کا ایک فرد سماج کے دوسرے فرد کی ترقی پر حسد نہ کرے۔ ہر مرد و عورت کے دل میں دوسرے مرد و عورت کے لیے محبت کا جذبہ ہو۔ ان کا سینہ ایک دوسرے کی دشمنی سے خالی ہو۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔
ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ فریقِ ثانی کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ کرے۔ اگر کبھی ایسا ہو کہ بات بڑھ جائے اور دونوں ایک دوسرے سے دوری اختیار کر لیں، تو زیادہ سے زیادہ 3 دن تک ان کو اس حال میں رہنے کی رخصت ہے۔ 3 دن کے بعد ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے غصے کو ٹھنڈا کر لیں اور دوبارہ معتدل انداز میں ملنا جلنا شروع کر دیں۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 301۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.