Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Falaah ka raasta

Urdu · 4 min

فلاح کا راستہ۔ صحیح مسلم میں یہ روایت آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے فلاح پائی جس نے اطاعت کی اور اس کو بقدرِ ضرورت رزق ملا، اور خدا نے اس کو جو کچھ دیا اس پر اس کو قناعت کی توفیق ملی۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ، وَرُزِقَ كَفَافًا، وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا أَتَاهُ۔ اس دنیا میں فلاح و کامیابی کا راز زیادتی میں نہیں ہے بلکہ قناعت میں ہے۔

زیادہ چاہنے والے کے لیے کبھی حد نہیں آتی، مگر قناعت کرنے والے کے لیے حد آ جاتی ہے۔ وہ ایک مقام پر پہنچ کر مطمئن ہو جاتا ہے۔ زیادہ کی حرص کرنے والا ہمیشہ بے اطمینانی کی حالت میں رہتا ہے، اور ملے ہوئے پر قناعت کرنے والا ہمیشہ اطمینان کی حالت پر۔ بقدرِ ضرورت رزق کس کو ملتا ہے؟

یہ وہ شخص ہے جو اپنی تمام کوششوں کو صرف مال کے حصول میں نہ لگائے، بلکہ اسی کے ساتھ وہ ایک فکری اور روحانی زندگی بھی گزار رہا ہو۔ اس کی روحانیت اور اس کا فکری ارتقاء اس بات کا ضامن بن جاتا ہے کہ وہ مال ہی کو سب کچھ نہ سمجھے۔ ایسا آدمی عین اپنے مزاج کے مطابق اس حقیقت کو جان لیتا ہے کہ مال میرے لیے ہے نہ کہ میں مال کے لیے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ محدود مال اس کی ضرورت کے لیے کافی ہو گیا، تو اپنے آپ اس کی رغبت لامحدود مال کی طرف سے ہٹ جاتی ہے۔

وہ ایک ایسی زندگی کو پا لیتا ہے جس میں سکون ہی سکون ہو اور اطمینان ہی اطمینان ہو۔ یہ ضروری ہے کہ آدمی کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کا کوئی حقیقی کام اٹکا ہوا نہ رہے۔ مگر یہ بالکل غیر ضروری ہے کہ آدمی کے پاس مال کا ڈھیر ہو، حتیٰ کہ وہ یہ بھی نہ جانے کہ اس مال کو اسے کہاں خرچ کرنا چاہیے۔ مال آدمی کی ضرورت ہے، مال آدمی کا مقصد نہیں۔

یہی اس دنیا میں پرسکون زندگی کا راز ہے۔ اور جو لوگ ایسی زندگی پر راضی ہو جائیں، انہی کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ روحانی ترقی کریں، وہ فکری بلندی کے اعلیٰ درجات کو پا سکیں۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 300۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.