ایک دوسرے کے لیے شفقت۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «لَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ إِلَّا رُحَمَاءٌ». فتح الباری، بشرح صحیح البخاری، جلد 10، صفحہ 123۔ یعنی اللہ اپنے بندوں میں سے صرف انہی پر رحم کرتا ہے جو خود رحم کرنے والے ہوں۔
اچھا سماج بنانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری شرط رحم دلی ہے۔ جس سماج کے افراد ایک دوسرے پر رحم کرنے والے ہوں، وہ سماج امن و ترقی کا سماج ہوگا۔ اور جس سماج کے لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے رحم کا جذبہ نہ ہو، ایسا سماج ایک جنگل کی مانند ہوگا جس میں کسی کو بھی سکون حاصل نہیں ہوگا۔ جب ایک آدمی دوسرے آدمی پر رحم کرتا ہے تو یہ صرف دو آدمی کے درمیان کا واقعہ نہیں ہوتا، بلکہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے پورے معنوں میں ایک اجتماعی واقعہ ہوتا ہے۔
اس سے سماج میں ایک دوسرے پر مہربانی کرنے کی روایات فروغ پاتی ہیں۔ سماج میں لوگوں کے درمیان رحمت و شفقت کی باتوں کا چرچا ہوتا ہے۔ اس سے اعلیٰ انسانی قدروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، اور پست انسانی کردار اپنے آپ لوگوں کی نظر میں بے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے۔ دوسروں پر رحم کرنے کا نقد فائدہ یہ ہے کہ رحم کرنے والے کو اس سے قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔
وہ لوگوں کے درمیان محترم بن کر لوگوں کے ضرر سے بچ جاتا ہے۔ اس طرح کے عمل کے ذریعے سماج میں جو ماحول بنتا ہے، اس کا فائدہ براہ راست اور بالواسطہ طور پر بار بار پہلے آدمی کو بھی پہنچتا رہتا ہے۔ دوسروں پر رحم کرنے والا انسان دنیا میں بھی خدا کی رحمت و برکت میں حصے دار بنتا ہے، اور آخرت میں بھی مزید اضافے کے ساتھ وہ خدا کی رحمت اور برکت کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ انسانی سماج وہ ہے جہاں لوگوں میں ایک دوسرے کے لیے شفقت و محبت پائی جائے۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 298۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.