Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Zulm nahi

Urdu · 4 min

ظلم نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام نے بتایا کہ خدا نے یہ فرمایا ہے کہ "اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے، اور تمہارے درمیان بھی آپس میں ظلم کرنا حرام ٹھہرایا ہے۔ پس تم لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔

" عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما روى عن الله تبارك وتعالى أنه قال: "يا عبادي، إني حرمت الظلم على نفسي، وجعلته بينكم محرماً، فلا تظالموا." صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والأدب۔ ظلم فطرت کے نقشے کے خلاف ہے۔ کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں، مگر اس کا کوئی جز اس کے دوسرے جز پر ظلم نہیں کرتا۔ یہ فطرت کا ماڈل ہے جو خدا نے کائنات میں قائم کیا ہے۔

انسان کو بھی چاہیے کہ وہ اسی ماڈل کو اپنائے۔ انسانی سماج میں بھی، اس کا کوئی فرد اس کے کسی دوسرے فرد پر زیادتی نہ کرے، جس طرح وسیع تر سطح پر کائنات کے مختلف اجزا ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرتے۔ ظلم یا زیادتی کیا ہے؟ وہ ہے اپنی حد سے تجاوز کرنا، اپنے واجبی حق سے زیادہ کا طالب بننا، اپنے فائدے کے لیے دوسرے کا نقصان کرنا۔

اس قسم کا ہر عمل فطرت کے نقشے میں اجنبی ہے۔ وہ خدا کا مطلوب عمل نہیں۔ ہر انسان کو آزادی ہے کہ وہ دنیا میں اپنی ترقی کا عمل جاری کرے، مگر اس کی ایک لازمی شرط ہے، اور وہ یہ ہے کہ اس کی سرگرمیاں دوسرے کے لیے نقصان کا باعث نہ بنیں۔ خلا کا ہر ستارہ اور سیارہ مسلسل گردش کر رہا ہے، مگر ہر ایک کی گردش اپنے مقرر مدار میں ہے۔

کوئی بھی ستارہ یا سیارہ اپنے مدار سے باہر نہیں نکلتا۔ یہی اصول ہے جس نے خلا کے ستاروں اور سیاروں کو باہمی ٹکراؤ سے بچا رکھا ہے۔ ٹھیک یہی اصول انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اپنے دائرے میں محدود رہتے ہوئے عمل کرنا عین جائز ہے، اور اپنے دائرے سے نکل کر دوسروں کے دائرے میں سرگرمیاں دکھانا عین ناجائز۔

یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف رویے ہیں۔ دونوں کا انجام یکساں ہونا ممکن نہیں۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 294۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.