انسانی برابری۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو، کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں، اور کسی سفید فام کو سیاہ فام پر فضیلت نہیں، اور کسی سیاہ فام کو سفید فام پر فضیلت نہیں، سوائے دین اور تقویٰ کے۔ لا فضل لعربي على عجمي، ولا لعجمي على عربي، ولا لأحمر على أسود، ولا لأسود على أحمر إلا بدين وتقوى. مسند احمد۔
تمام انسانوں کا خالق ایک ہے، تمام انسان ایک ہی ابتدائی ماں اور باپ سے پیدا ہوئے ہیں، اس لیے تمام انسان یکساں ہیں۔ تمام انسان آپس میں خونی بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ظاہری طور پر دیکھنے میں مختلف انسانی نسلوں کے درمیان فرق نظر آتا ہے، مثلاً رنگ کا فرق: ان میں کوئی سیاہ فام ہے اور کوئی سفید فام، مگر اس طرح کے تمام فرق صرف ظاہر کے اعتبار سے ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے، ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
انسانی برابری کا یہ تصور خدائی شریعت کے مطابق بھی ہے اور فطرت کے مطابق بھی۔ مزید یہ کہ تمام انسانوں کو برابر کا درجہ دے کر ہی بہتر سماج بن سکتا ہے۔ جس سماج میں لوگوں کو برابر کا درجہ نہ دیا گیا ہو، وہ سماج کبھی امن اور خوشحالی کا سماج نہیں بن سکتا۔ ایسے سماج میں ابدی طور پر بے چینی جاری رہے گی۔
ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق کی بنیاد نسل اور رنگ اور زبان نہیں ہے، بلکہ کردار ہے۔ جو آدمی کردار اور اخلاق میں اونچا ہے، وہی درجے کے اعتبار سے بھی اونچا ہے۔ اور جو آدمی کردار اور اخلاق کے اعتبار سے بلند نہ ہو، وہ انسانیت کے اعتبار سے بھی بلند نہیں، خواہ اس نے بظاہر کتنا ہی خوشنما لباس اپنے جسم کے اوپر ڈال رکھا ہو۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 293۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.