Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Rahmat wala samaaj

Urdu · 3 min

رحمت والا سماج۔ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «رَحِمَ اللهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ وَإِذَا اَشْتَرَى وَإِذَا اقْتَضَىٰ» یعنی خدا اس انسان پر رحم فرمائے جو نرمی اختیار کرے جبکہ وہ خریدے اور بیچے اور تقاضا کرے۔ اس حدیث میں براہِ راست طور پر تاجر کا ذکر ہے، مگر بالواسطہ طور پر اس کا تعلق تمام انسانوں سے ہے۔ یہ حدیث اسام انسانی رویے کو بتاتی ہے جو اس کو سماجی زندگی میں اختیار کرنا چاہیے۔

وہ رویہ یہ ہے کہ آدمی ہر معاملے میں نرم مزاج ہو، جب وہ سوچے تو مخالفانہ انداز میں نہ سوچے بلکہ خیرخواہی کے انداز میں سوچے۔ جب وہ بولے تو اس کا بول کڑوا نہ ہو بلکہ میٹھا بول ہو۔ جب وہ لوگوں سے معاملہ کرے تو اس کے رویے میں کڑواپن نہ ہو بلکہ لچک ہو۔ خرید و فروخت کے وقت وہ دوسروں کی رعایت کرنے والا ہو، حتیٰ کہ جب دوسروں کے اوپر اس کا قرض ہو تو وہ قرض کی وصولیابی میں سختی کا انداز اختیار نہ کرے۔

یہی وہ لوگ ہیں جن کو حقیقی انسان کہا جا سکتا ہے، جس سماج میں ایسا مزاج رکھنے والے انسان ہوں، وہ سماج رحمت کا سماج ہوگا۔ ایسے سماج میں انسانیت پرورش پائے گی۔ ایسے سماج میں لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ اپنے حقوق سے زیادہ وہ دوسروں کے حقوق کا لحاظ کریں گے۔ ایسے سماج کے افراد لوگوں کے درمیان پھول کی طرح رہیں گے، نہ کہ کانٹے کی طرح۔

اگر ایک فرد ایسا ہو تو اس فرد کو اپنی ذات کی سطح پر خدا کی رحمت ملے گی، اور اگر سماج کے بہت سے لوگ اس قسم کا نرم مزاج رکھتے ہوں تو پورا سماج خدا کی رحمتوں اور برکتوں کے سائے میں آ جائے گا۔ نرم مزاج والا انسان ہی سچا انسان ہے۔ جس انسان کے مزاج میں کڑاپن ہو، وہ گویا کہ چلتا پھرتا پتھر ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی انسان۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 292۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.