پاکیزہ زندگی: قرآن کی سورہ نمبر 91 میں ارشاد ہوا ہے کہ کامیاب ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا وہ جس نے اپنے نفس کو آلودہ کیا۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا. الشمس نوتدس موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں انسان کے لیے بیک وقت دو امکانات چھپے ہوئے ہیں: اپنے اندر پاکیزہ اخلاقی شخصیت تعمیر کرنے کا امکان، یا پھر اپنی شخصیت کو اخلاقی حیثیت سے آلودہ کر لینے کا امکان۔ یہ دونوں امکانات ہر شخص کے لیے اور ہر حال میں موجود ہیں۔
جس آدمی نے ان امکانات کو ایک پہلو سے استعمال کیا، اس نے اپنے آپ کو کامیاب بنا لیا۔ اور جس نے ان امکانات کو دوسرے پہلو سے استعمال کیا، اس نے اپنے آپ کو ناکام بنا لیا۔ موجودہ دنیا طرح طرح کے حالات سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں بار بار مختلف قسم کے انسانوں سے سابقہ پڑتا ہے، انہی حالات و واقعات کے درمیان انسانی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔
مثلاً آپ کے ساتھ وقتی طور پر نقصان کا ایک واقعہ پیش آیا۔ اب اگر اس واقعے کو آپ مستقل واقعہ سمجھیں تو آپ صرف دل شکستہ ہو کر رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ اس کو صرف ایک وقتی واقعہ سمجھیں تو آپ بدستور حوصلہ اور ہمت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے آپ کے خلاف اشتعال انگیزی کر دی۔
اس کے بعد اگر آپ بھڑک اٹھے تو آپ نے اپنی یکسوئی میں خلل ڈالا، اور اگر آپ صبر و تحمل کے ساتھ اس کا سامنا کریں تو گویا آپ نے اپنی ذہنی یکسوئی کو برقرار رکھا۔ اسی طرح کبھی آدمی محسوس کرتا ہے کہ اس کے آس پاس کے لوگ اس کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ ایسا واقعہ اگر اس کو احساس کمتری میں مبتلا کر دے تو اس کی صلاحیتیں ٹھٹر کر رہ جائیں گی۔ اس کے برعکس اگر وہ اس معاملے کو اپنی ناقص تیاری پر محمول کرے تو وہ اس واقعے سے مزید عمل کی غذا لے گا، اور زیادہ محنت کر کے مستقبل میں اس چیز کو پا لے گا جس کو وہ حال میں پائے ہوئے نہیں تھا۔
اسلام ایک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 290۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.