Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Naap taul me farq

Urdu · 4 min

ناپ تول میں فرق؟ قرآن کی سورہ نمبر 83 میں ارشاد ہوا ہے کہ خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو کہ لوگوں سے ناپ کر لیں تو پورا کر لیں، اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں۔ کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ وہ اٹھائے جانے والے ہیں ایک بڑے دن کے لیے، جس دن تمام لوگ خداوندِ عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے؟ المتفین ایک تین کسی سماج میں سب سے زیادہ برے کردار والے وہ لوگ ہیں جن کا حال یہ ہو کہ جب وہ دوسروں سے کوئی چیز لے رہے ہوں تو پوری طرح ناپ کر اور تول کر لیں، لیکن جب انہیں دوسروں کو دینا ہو تو وہ کم ناپیں اور کم تولیں۔

ان کے پاس اپنے لیے ایک ترازو ہو اور بقیہ لوگوں کے لیے دوسرا ترازو۔ اس کردار کا تعلق صرف تجارتی ناپ اور تول سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ مثلاً جو لوگ ایسا کریں کہ جب وہ اپنا تذکرہ کریں تو وہ ہمیشہ اپنی اچھائیاں اور خوبیاں بیان کریں، اور جب وہ دوسروں کا تذکرہ کریں تو وہ صرف ان کی برائیوں کو لیں، اور سماج میں انہی کا چرچا کریں۔ اپنے بارے میں ان کا معیار یہ ہو کہ ہر جگہ میری تعریف کی جائے، اور دوسروں کے بارے میں ان کا معیار یہ ہو کہ لوگ ان کو ان کی بری صفات کے ساتھ جانیں۔

جو لوگ ایسا کریں کہ جب اپنی ذات کا معاملہ ہو تو وہ اپنی برائیوں کو چھپائیں اور اپنی اچھائیوں کو نمایاں کریں، اور جب دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ ان کی اچھائیوں کو نظر انداز کر دیں اور صرف ان کی برائیوں کو بیان کریں، ایسے لوگ خدا کی نظر میں نہایت برے ہیں، خدا کی رحمت میں حصہ پانے والے نہیں۔ جس سماج میں ایسے لوگ پائے جائیں، وہ پورے سماج کو گندا کر دیں گے۔ اس لیے کہ اگر ایک مجلس میں وہ اپنی اچھائی بیان کر رہے ہوں گے تو دوسری مجلس میں انہی جیسا ایک آدمی ان کی برائی بیان کر رہا ہوگا۔ اس طرح ہر آدمی لوگوں کی نظر میں مجتبیٰ ہو جائے گا۔

ایسے سماج سے حسنِ زن اور اعتماد کی فضا ختم ہو جائے گی۔ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے احترام باقی نہیں رہے گا۔ اور جس سماج میں ایسا ہو جائے، وہ سماج کسی کے لیے بھی رہنے کے قابل نہیں، حتیٰ کہ اس کے لیے بھی نہیں جو صبح سے شام تک اپنی تعریف بیان کرتا رہتا ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 289۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.