خدائی یاد دہانی: قرآن کی سورہ نمبر 63 میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تم کو خدا کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں، اور جو ایسا کرے گا تو وہی گھاٹے میں پڑنے والے لوگ ہیں۔ المنافقون 9. ضمیر خدا کی یاد دہانی ہے: ہر انسان کے سینے میں ایک ضمیر ہے جو گویا کہ خدا کی آواز ہے۔
یہ ضمیر ہر موقع پر یاد دلاتا ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ہے۔ کیا چیز خدا کی پسند کے مطابق ہے اور کیا چیز خدا کی پسند کے خلاف؟ یہ خدائی یاد دہانی ہر موقع پر انسان کو متنبہ کرتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود انسان کیوں غلط روش اختیار کرتا ہے؟
اس کا سبب مال اور اولاد کی محبت ہے۔ انسان مال اور اولاد کے ساتھ اپنی بڑھی ہوئی محبت کی بنا پر خدا کی یاد دہانی کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ خدائی پسند کو جان لینے کے باوجود وہ اس کے خلاف چلنے لگتا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ بلاشبہ گھاٹا اٹھانے والے لوگ ہیں۔
انہوں نے خدا کی زمین میں سرکشی کی۔ ایسے لوگ خدا کی سزا کے مستحق ہیں، نہ کہ خدا کے انعام کے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے لیے درست روش کیا ہے؟ اور وہ کون سا راستہ ہے جو اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے والا ہے؟
وہ یہ ہے کہ جب بھی اس کو خدا کی یاد دہانی پہنچے، اس کا سینہ خدائی آواز سے گونجے، تو وہ فوراً اس پر دھیان دے۔ وہ کھلے دل کے ساتھ اس کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرے۔ مال، اولاد، یا کسی بھی دوسری چیز کو وہ اس معاملے میں رکاوٹ نہ بننے دے۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر محبت کا جذبہ ہے۔
مثلاً مال اور اولاد کی محبت۔ محبت کا یہ جذبہ آزمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ وہ اس لیے نہیں ہے کہ آدمی جس چیز کی محبت اپنے دل میں پائے، وہ اس چیز کی طرف دوڑ پڑے۔ بلکہ وہ اس لیے ہے کہ غیرِ خدا سے محبت کے باوجود خدا کو نہ بھولے۔
غیرِ خدا کی کشش کے باوجود وہ اپنی ساری توجہ خدا کی طرف لگا دے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 288۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.