Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Bukhl nahi

Urdu · 3 min

بخل نہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 59 میں ارشاد ہوا ہے کہ جو شخص اپنے جی کے لالچ یعنی شُحّ نفس سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ الحشر 9۔ انسانیت کی اجتماعی فلاح کا راز یہ ہے کہ لوگوں میں سخاوت کا مزاج ہو، وہ بخل اور لالچ سے بچے ہوئے ہوں۔

بخل کیا ہے؟ بخل دراصل بڑھی ہوئی خودغرضی کا دوسرا نام ہے۔ بخیل آدمی کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے فائدے کی بات سوچتا ہے، اسے دوسروں کے فائدے سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ سماجی مواقع کو استعمال کر کے مادی فائدے سمیٹتا ہے، لیکن اس ملے ہوئے فائدے میں سماج کا حصہ ادا کرنا اسے گوارا نہیں ہوتا۔

اس مزاج کا انسان خود بھی گھاٹے میں رہتا ہے، اور وہ دوسرے کے لیے بھی گھاٹے کا سبب بنتا ہے۔ لالچ اور بخل کا یہ مزاج آدمی کے دل کو تنگ کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ خود اپنے آپ کو کسی بڑی کامیابی سے محروم کر لیتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جتنا بڑا دل، اتنی بڑی کامیابی۔

جس سماج میں اس قسم کے بخیلانہ کردار والے لوگ پائے جائیں، وہ سماج آخر کار ایک مریض سماج بن جاتا ہے۔ ایسے سماج میں صرف لینے کی فضا بنتی ہے، وہاں دینے کا ماحول قائم نہیں ہوتا۔ لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بدخواہی تو ہوتی ہے، مگر ان کے سینے میں دوسروں کے لیے خیرخواہی کے چشمے جاری نہیں ہوتے۔ ایسے سماج میں صرف پست کرداری جنم لیتی ہے، اعلیٰ قسم کے اخلاقی کردار وہاں پرورش نہیں پاتے۔

انسانیت کی فلاح کشادہ دلی میں ہے، نہ کہ بخل میں۔ اچھا سماج سخاوت والے لوگ بناتے ہیں، نہ کہ لالچ والے لوگ۔ حقیقی انسانی دنیا کی تعمیر وہ لوگ کرتے ہیں جو دوسرے کا بھلا چاہتے ہوں، نہ کہ صرف اپنی ذات اور اپنے خاندان کا۔ فرد کی ترقی مجموعی ترقی میں ہے، نہ کہ صرف انفرادی ترقی میں۔

کتاب "اسلامِ تعارف" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 287۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.