Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Rahmat se dur

Urdu · 4 min

رحمت سے دور۔ قرآن کی سورہ نمبر 45 میں ارشاد ہوا ہے کہ پس جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے، تو ان کا رب ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہی کھلی کامیابی ہے۔ اور جنہوں نے انکار کیا، کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں؟

پس تم نے تکبر کیا، اور تم مجرم لوگ تھے۔ الجاسیہ 30:31۔ سچائی کو نہ پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ کبر ہے، اور اس کو پانے میں سب سے بڑا مددگار تواضع ہے۔ جو آدمی تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو، وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھ لیتا ہے، یہاں تک کہ حق سے بھی زیادہ بڑا۔

جب کوئی انسان اس کو حق کا پیغام دیتا ہے، تو وہ اپنی اس نفسیات کی بنا پر یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اگر میں اس کو مان لوں تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ یہ خود ساختہ اندیشہ اس کے لیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جس انسان کے اندر عجز و فروتنی کی نفسیات ہو، وہ اپنے آپ کو اتنا ہی سمجھے جتنا کہ وہ فی الواقع ہے۔ ایسا شخص گویا پیشگی طور پر حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔

حق جب اس کے سامنے آتا ہے تو اس کو اسے پہچاننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ وہ فوراً اس کو مان کر اپنے آپ کو اس کے آگے جھکا دیتا ہے۔ ہدایت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی کبر ہے۔ کبر خدا کے نزدیک ایک جرم ہے۔

ایسا آدمی گویا خدا کے دائرے میں داخل ہو رہا ہے۔ ساری بڑائی صرف ایک خدا کو حاصل ہے۔ انسان کی حیثیت اس کے مقابلے میں صرف ایک عاجز بندے کی ہے۔ جو آدمی اپنی اس واقعی حیثیت کو قبول کر لے، خدا اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کو ہر قسم کی اعلیٰ توفیق سے سرفراز کرتا ہے۔

اور جو آدمی اپنی اس واقعی حیثیت کو قبول نہ کرے، وہ کبھی خدا کی رحمت کا مستحق نہیں بن سکتا۔ کامیاب انسان وہ ہے جو تکبر سے خالی ہو، اور ناکام وہ ہے جو تکبر کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے۔ اس کے بعد کوئی بھی چیز اس کو خدا کے غضب سے بچانے والی نہیں۔ کتاب اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان صفحہ نمبر 286۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.