درست کلامی۔ قرآن کی سورہ نمبر 33 میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو، وہ تمہارے اعمال سنوارے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔
الاحزاب 70:71 قول انسان کی پوری شخصیت کی علامت ہے۔ پختہ اور درست کلام اس بات کی علامت ہے کہ اس کا بولنے والا پختہ سیرت اور درست شخصیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس جس آدمی کا کلام درست کلام نہ ہو، وہ ایسے کلام کے ذریعے بتاتا ہے کہ اس کی شخصیت پختگی اور درستگی کی صفات سے خالی ہے۔ درست کلام دراصل درست شخصیت کی خارجی علامت ہے۔
جس آدمی کا حال یہ ہو کہ جب وہ بولے تو ٹھیک مطابقِ واقعہ بات بولے، اس کا ہر قول انصاف کے ترازو میں تلا ہوا ہو، ایسا آدمی یقینی طور پر سنجیدہ شخصیت کا حامل ہوگا۔ اس کے مزاج میں حق پسندی ہوگی۔ وہ اس کمزوری سے پاک ہوگا جس کو عام طور پر دو عملی یا منافقت کہا جاتا ہے۔ جو آدمی اس معنی میں درست کلامی کی صفت رکھتا ہو، اس کے تمام اعمال بھی لازمی طور پر درست ہوتے چلے جائیں گے۔
اپنی درست کلامی کی بنا پر وہ نفسیاتی پیچیدگی سے پاک ہوگا۔ لوگوں کو اس سے کوئی شکایت نہ ہوگی، کیونکہ لوگوں کو اس سے فریب کا تجربہ پیش نہیں آئے گا۔ وہ جو کہے گا وہی کرے گا، اور اس کو جو کرنا ہے وہی وہ اپنی زبان سے بولے گا۔ اپنی اس صفت کی بنا پر لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنا اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔
وہ نہ داخلی طور پر ضمیر کے مسئلے سے دوچار ہوگا اور نہ خارجی طور پر بے اعتمادی کے مسئلے سے۔ ایسا ہی آدمی کائنات کا مطلوب انسان ہے۔ اور جس آدمی کے اندر یہ صفات ہوں، اس کی ترقی اور کامیابی کسی منزل پر رکنے والی نہیں۔ درست کلام ابتدائی طور پر قول کی درستگی کا نام ہے، اور آخری نتیجے کے اعتبار سے عمل کی درستگی کا نام۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 285۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.