صبر کی قیمت۔ قرآن کی سورہ نمبر 23 میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں خدا اپنے وفادار بندوں کے بارے میں فرمائے گا کہ آج میں نے ان کو بدلہ دیا ان کے صبر کرنے کا۔ وہی ہیں کامیاب ہونے والے۔ المومنون 111۔
دنیا میں صلاح و فلاح کی جو زندگی مطلوب ہے، اس کی واحد قیمت صبر ہے۔ جو لوگ صبر کی یہ لازمی قیمت دینے کے لیے تیار ہوں، وہی موجودہ دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے، اور موجودہ دنیا کے بعد بننے والی ابدی دنیا میں بھی۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی کو آزادی حاصل ہے۔ یہاں کسی بھی شخص پر کوئی پابندی نہیں۔
یہاں نیک آدمی کے لیے جس طرح عمل کے مواقع ہیں، ٹھیک اسی طرح یہاں برے لوگ بھی آزاد ہیں کہ جس طرح بھی وہ چاہیں اپنی سرگرمیاں جاری کریں۔ اس بنا پر انسانی سماج ایک ایسا سماج بن جاتا ہے جہاں قدم قدم پر رکاوٹیں ہیں۔ جہاں آدمی کو میٹھے بول کے ساتھ کڑوے بول بھی سننے پڑتے ہیں۔ یہاں آدمی کو فائدے کے ساتھ نقصان کا تجربہ بھی پیش آتا ہے۔
یہاں آدمی کا سفر خوشگوار وادیوں میں بھی طے ہوتا ہے اور ناخوشگوار وادیوں میں بھی۔ ایسی حالت میں کوئی شخص خدا پرستانہ زندگی پر کیسے قائم رہے؟ وہ کس طرح ایک بااصول انسان کے طور پر جیے، جبکہ یہاں بار بار ایسے لمحات پیش آتے ہیں جو اصول پسندی کی روش کو سخت مشکل بنا دینے والے ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف ایک ہے، اور وہ صبر ہے۔
یعنی منفی ردعمل سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے ہر حال میں مثبت روش کا پابند بنانا۔ پیش آنے والی تلخیوں کو جھیلتے ہوئے ایک طرفہ طور پر اپنے آپ کو سچائی کی روش پر قائم رکھنا۔ یہی صبر ہے، اور اعلیٰ انسانی شخصیت کی تعمیر کے لیے یہ صبر اتنا زیادہ ضروری ہے کہ اس کے بغیر اعلیٰ انسانی شخصیت کی تعمیر ممکن ہی نہیں۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 284۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.