Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Akhlakhi dabaao

Urdu · 4 min

اخلاقی دباؤ۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی منکر کو دیکھے تو وہ اپنے ہاتھ سے اس کو بدل دے، اور اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اپنی زبان سے اس کو برا کہے، اور اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو وہ اپنے دل میں اس کو برا سمجھے۔ اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ من رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان.

صحیح مسلم۔ کسی سماج کی اصلاح کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس کے اندر بگاڑ کے خلاف ایک مستقل روک موجود ہو۔ انسانی سماج کو اگر بگاڑ سے روکا جاتا رہے تو وہ اپنے آپ درست طریقے سے چلے گا۔ اس کے بعد فطرت کا زور ہی اس کو بہتر سماج بنانے کے لیے کافی ہو جائے گا۔

وہ روک یہ ہے کہ سماج کے افراد میں اچھے اور برے کا احساس زندہ ہو۔ جب بھی وہ کسی فرد یا گروہ کو کوئی غلط کام کرتے ہوئے دیکھیں، یا کسی کو دوسرے کے خلاف زیادتی اور بے انصافی کرتے ہوئے پائیں، تو ان کا احساسِ ذمہ داری جاگ اٹھے۔ وہ غلط کار اور ظالم کے پاس پہنچیں، اور مل کر یہ کوشش کریں کہ وہ اپنی غلط کارروائی سے باز آئیں۔ وہ اپنی ساری طاقت ایسے لوگوں کو روکنے میں لگا دیں۔

ان کی ساری کوشش یہ ہو کہ سماج میں صرف اچھی روایات فروغ پائیں، بری روایات قائم ہونے کو وہ کسی بھی حال میں برداشت نہ کریں۔ اس کام کو دوسرے لفظوں میں اخلاقی دباؤ کہا جا سکتا ہے۔ سماج میں اگر ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہوں جو کسی کو غلط کام کرتے ہوئے دیکھیں تو فوراً اس کے خلاف اٹھ جائیں۔ وہ ہر قسم کی پرامن کوشش کے ذریعے ایسے افراد کو مجبور کر دیں کہ وہ اپنی بری روش سے باز آئیں، اور آئندہ اس کو دہرانے کی ہمت نہ کریں۔

یہ کام تمام تر پرامن اخلاقی دباؤ کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ اس اخلاقی دباؤ کی بہت سی صورتیں ہیں، اور حالات کے اعتبار سے اس کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ ان میں سے ایک زبان کے ذریعے نصیحت اور تلقین بھی ہے، حتیٰ کہ دل سے برائی کو برائی سمجھنا بھی اسی دباؤ کی ایک قسم ہے۔ کسی سماج میں اگر بہت سے لوگ دل کے پورے جذبے کے ساتھ برائی کو برائی سمجھنے لگیں، تو اس سے جو عمومی نفسیاتی فضا پیدا ہوگی، وہ خود بھی برائی کے خلاف ایک خاموش روک بن جائے گی۔

اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 283۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.