تول کا دن۔ قرآن کی سورہ نمبر 7 میں ارشاد ہوا ہے کہ "اور اس دن وزن دار صرف حق ہوگا"۔ پس جن کی تولیں بھاری ہوں گی وہی لوگ کامیاب ٹھہریں گے، اور جن کی تولیں ہلکی ہوں گی وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا، کیونکہ وہ ہماری نشانیوں کے ساتھ ناانصافی کرتے تھے۔ الاعراف 8:9۔
انسان دنیا میں جو عمل کرتا ہے، اس کا ایک مادی پہلو ہے اور دوسرا اس کا اخلاقی پہلو۔ مادی پہلو اس کا ظاہری پہلو ہے جو ہر ایک کو دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس اخلاقی پہلو ایک معنوی پہلو ہے، جو اگرچہ پوری طرح موجود ہوتا ہے لیکن ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ انسانی عمل کا مادی پہلو دولت، مکان، اور دوسرے دنیاوی سامانوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ان سامانوں کی بدولت دنیا میں انسان کو عزت ملتی ہے۔ اس کی وجہ سے آدمی کے ہر کام بنتے چلے جاتے ہیں۔ اس لیے ہر آدمی اس کی طرف دوڑتا ہے۔ ہر آدمی اس کے لیے محنت کرتا ہے۔
مگر انسان کی محنت کا یہ مادی حاصل صرف دنیا کی زندگی میں اس کے کام آتا ہے۔ موت آدمی کو اس قسم کے تمام ساز و سامان سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیتی ہے۔ موت کے بعد یہ چیزیں کسی کے بھی کام آنے والی نہیں۔ انسانی عمل کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو اخلاقی کہا جاتا ہے۔
یعنی جب بولنا تو سچ بولنا۔ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے دیانت اور انصاف پر قائم رہنا۔ لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا کرنا۔ لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرنا وغیرہ۔
موت کے بعد لوگوں کے اعمال خدا کے ترازو میں تولے جائیں گے۔ جس آدمی نے صرف دنیاوی ساز و سامان کے لیے محنت کی ہوگی، وہ وہاں کے ترازو میں بے وزن ہو جائے گا، کیونکہ وہ وہاں خالی ہاتھ پہنچا تھا۔ البتہ جن لوگوں نے دنیا کی زندگی میں نیکیاں کی ہوں گی، وہ وہاں ان کے ساتھ پہنچیں گی، اور اپنی ان نیکیوں کی بدولت وہ آخرت کی تول میں باوزن قرار پائیں گی۔ پہلی قسم کے لوگوں کے لیے آخرت میں گھاٹا ہی گھاٹا ہے، اور دوسری قسم کے لوگوں کے لیے کامیابی ہی کامیابی۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 279۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.