Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Qanun-e-hayaat

Urdu · 4 min

قانونِ حیات: قرآن کی سورہ نمبر 10 میں ارشاد ہوا ہے کہ جن لوگوں نے اقرار کیا اور انہوں نے پرہیزگاری اختیار کی، ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں، یہی بڑی کامیابی ہے۔ سورہ یونس، آیت 63 تا 64: خدا کا اقرار سب سے بڑی حقیقت کا اقرار ہے۔ جو آدمی پورے معنوں میں خدا کا اقرار کرے، اس نے اپنی زندگی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز پا لیا۔

اس کے برعکس جو آدمی خدا کا اقرار نہ کرے، وہ گویا اپنی زندگی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز کو نہ پا سکا۔ پہلے انسان کے لیے کامیابی ہے، اور دوسرے انسان کے لیے صرف ناکامی اور نامرادی۔ آدمی جب حقیقتِ واقعے کا اقرار کرے تو اس کے لازمی نتیجے کے طور پر وہ سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ یہ اقرار اس کو بتاتا ہے کہ دنیا میں اس کے سوا ایک اور بالاتر طاقت ہے، جس کو نظر انداز کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔

یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ احتیاط اور ذمہ داری کی زندگی گزارے۔ اسی زندگی کا نام پرہیزگاری ہے۔ خدا نے اس دنیا کے لیے جو قانون مقرر کیا ہے، اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ انسان کے لیے واحد ممکن راستہ یہ ہے کہ وہ اس خانون سے مطابقت کر کے اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔

اگر وہ اپنے آپ کو اس خانونِ فطرت کے مطابق نہ بنائے تو وہ خود اپنا نقصان کرے گا، نہ کہ قانونِ فطرت کا۔ اس دنیا میں کامیابی صرف اس انسان کے لیے ہے جو اپنے آپ کو برائیوں سے بچائے، جو صحیح اور غلط میں فرق کرے، جو یہ جانے کہ خدا کی دنیا میں اس کو تواضع کی روش کے ساتھ رہنا ہے، نہ کہ گھمنڈ کی روش کے ساتھ۔ اس کے لیے اخلاقی پابندی کا طریقہ درست ہے، نہ کہ اخلاقی بے خیری کا طریقہ۔ اس کو یہاں انسان بن کر حدود و قیود میں رہنا ہے۔

وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ جنگل کے حیوان کی طرح بے قید زندگی گزارنے لگے۔ اس دنیا میں اخلاقی پرہیز بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ غذائی پرہیز۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 280۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.