Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Falah-e-insaniyat

Urdu · 3 min

فلاحِ انسانیت: قرآن کی سورہ نمبر 7 میں انسان کے لیے خدا کے عطیات کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ تم خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ فَاذْكُرُوا عَلَى اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ الْأَعْرَاف 7: موجودہ دنیا میں کسی انسان کے رویّے کی درستگی کا انحصار تمام تر صرف ایک چیز پر ہے، اور وہ حقیقت پسندی ہے۔ یعنی انسان اپنی واقعی حیثیت کو سمجھے اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لے۔ اپنی حیثیتِ واقعی کے اعتراف ہی میں تمام انسانی خوبیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔

یہ حیثیتِ واقعی کیا ہے؟ وہ یہ ہے کہ انسان خدا کی مخلوق ہے۔ خدا نے اس کو نہ صرف بہترین جسم و دماغ کے ساتھ پیدا کیا ہے، بلکہ اس کو ایک ایسی دنیا دی ہے جو اس کے لیے ہر قسم کے موافق اور معاون اسباب سے بھری ہوئی ہے۔ انسان کا ذاتی وجود بھی اس کے لیے خدا کی ایک نعمت ہے، اور اس کی ذات کے باہر پھیلی ہوئی دنیا بھی اپنے تمام اجزا کے ساتھ اس کے لیے ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتی ہے۔

آدمی کے اندر یہ سوچ جب پوری طرح پیدا ہو جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک متوازن انسان بن جاتا ہے۔ وہ احتیاط اور ذمہ داری کے احساسات میں جینے لگتا ہے۔ وہ اپنی فکر کے اعتبار سے سنجیدہ انسان بن جاتا ہے، اور اپنے احساسات کے اعتبار سے ایک درد مند انسان۔ کسی سماج میں ایسے انسانوں کی موجودگی اس کے فلاح کی یقینی ضمانت ہے۔

ایسا سماج انصاف کا سماج ہوگا، نہ کہ ظلم کا سماج۔ ایسے سماج میں ہر آدمی خود اپنے ذاتی تقاضے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والا بن جائے گا۔ وہ اس کا تحمل نہیں کر سکے گا کہ وہ صرف اپنی ذات میں جیے اور دوسروں کے حقوق سے دستبردار ہو جائے۔ خدا کی نعمتوں کے احساس میں جینے والا انسان ایک حق شناس انسان ہوتا ہے۔

اس کا یہ احساس کہ خدا نے اس کو دیا ہے، یہی اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بھی دوسروں کو دینے والا بن جائے۔ اسلام ایک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 278۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.