Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Insaaf pasandi

Urdu · 4 min

انصاف پسندی۔ قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو، خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں کو پہنچا دو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ خدا اچھی نصیحت کرتا ہے تم کو، بے شک خدا سننے والا، دیکھنے والا ہے۔ النساء 58۔

ہر ذمہ داری ایک امانت ہے، اور اس کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے، تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے، کیونکہ بہتری اور کامیابی اسی میں ہے۔ کیونکہ بہتری اور کامیابی اسی میں ہے جو خدا بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔

زندگی کا پورا نظام امانت کے اصول پر قائم ہے۔ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کے پاس دوسرے آدمی کی کوئی چیز ہوتی ہے جس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اسے حقدار کے حوالے کرے۔ یہ امانت کسی محدود چیز کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک وسیع چیز ہے جس میں زندگی کے بیشتر معاملات داخل ہیں۔ یہ امانت کبھی ایک قول ہوتی ہے، یہ امانت کبھی ایک قول ہوتا، اور کبھی مال یا زمین، اور کبھی کسی کا کوئی راز، یا اسی طرح اور کوئی چیز۔

اسی کے ساتھ عدل کا حکم بھی جڑا ہوا ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے معاملے میں ایک بات انصاف کی ہوتی ہے اور دوسری بات بے انصافی کی۔ ایک روش انصاف کے مطابق ہوتی ہے اور دوسری روش انصاف کے خلاف۔ ایسے مواقع پر اعلیٰ انسان وہ ہے جس کا حال یہ ہو کہ جب وہ بولے تو انصاف کی بات بولے، جب وہ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرے تو انصاف کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے معاملہ کرے۔

اس کی انصاف پسندی اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ اس معاملے میں وہ اپنے میں اور غیر میں فرق نہ کرے۔ حتیٰ کہ اگر انصاف کی روش اپنی ذات کے خلاف ہو تو وہ ذاتی مفاد کو نظر انداز کرتے ہوئے عدل و انصاف کی روش کو اختیار کرے۔ امانت داری اور انصاف پسندی یہی وہ اصول ہیں جن کی پابندی کسی انسان کو انسان بناتی ہے، اور ایسے انسانوں کے ملنے سے جو معاشرہ بنے، اسی کا نام فلاحی معاشرہ ہے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 277۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.