فلاحی معاشرہ۔ قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں، اور اس چیز کو توڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، اور زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے۔ البقرہ 27۔ انسان جب سماجی زندگی میں رہتا ہے تو سماج کے ہر فرد سے اس کا براہِ راست یا بالواسطہ تعلق قائم ہو جاتا ہے۔
اس کے اپنے گھر کے افراد سے لے کر حکمران طبقے کے افراد تک، ہر ایک سے وہ خاموش عہد میں جڑا ہوا ہوتا ہے۔ سماجی زندگی ایک قسم کا معاہدہ ہے، ہر آدمی اس میں جڑا ہوا ہے، خواہ اس نے اس کا اعلان کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ اس عہد کے تقاضے کو پورا کرنے سے ایک فلاحی معاشرہ بنتا ہے، اور جس سماج کے افراد اس عہد کے تقاضے کو توڑتے رہیں، وہ سماج تباہی و بربادی کا سماج بن جائے گا۔ رشتہ اور خاندان کے درمیان اس تعلق کا نام صلہ رحمی ہے، اور اس کی خلاف ورزی کرنے کا نام قطع رحم۔
اسی طرح پڑوس کے لوگوں کے ساتھ آدمی کو حقوق ادا کرنے والا بننا ہے، نہ کہ حقوق کو توڑنے والا۔ اسی طرح پورے سماج میں آدمی کو یہ کرنا ہے کہ آدمی اس کا ایک نفع بخش ممبر بنے، نہ کہ نقصان پہنچانے والا اور مسائل پیدا کرنے والا ممبر۔ اسی طرح ملکی انتظام کے ڈھانچے میں اس کو قانون پر چلنے والا شہری ہونا چاہیے، نہ کہ قانون کو توڑنے والا۔ یہ دو مختلف قسم کے انسان دو مختلف قسم کے سماج بناتے ہیں۔
ایک قسم کے انسانوں سے تعمیری سماج بنتا ہے، جس کے اندر صالح قدریں پرورش پائیں، اور دوسری قسم کے لوگوں سے جو سماج بنے وہ ایک بگڑا ہوا سماج ہوگا۔ اس میں برائیوں کو فروغ ہوگا اور نیکیاں دب کر رہ جائیں گی۔ صالح انسانی سماج وہ ہے جو فطرت کے منصوبے کے مطابق ہو، اور غیر صالح سماج وہ ہے جو فطرت کے مقرر کیے ہوئے راستے سے ہٹ جائے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 275۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.