مقامِ عمل کو بدلنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداً 13 سال تک مکے میں تھے۔ وہاں کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا، مگر وہاں کی اکثریت آپ کی مخالف بن گئی، یہاں تک کہ وہ لوگ آپ کے قتل پر آمادہ ہو گئے۔ اس وقت آپ نے ایسا نہیں کیا کہ ان کے خلاف جوابی کارروائی کریں اور کسی حال میں مکہ نہ چھوڑنے کا عزم کر لیں۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ خاموشی کے ساتھ مکے کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔
یہ گویا اپنے میدانِ عمل کو بدلنا تھا۔ آپ نے حالات کا گہرا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اپنی قوت کو اہلِ مکے سے محاذ آرائی میں استعمال نہ کریں، بلکہ مکے کو چھوڑ کر مدینے کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیں۔ یہ ایک سنتِ رسول ہے۔ اس کو مقامِ عمل کی تبدیلی کا نام دیا جا سکتا ہے۔
عملی اور نظامی معاملات کے لیے یہ نہایت اہم سنت ہے۔ اس سنت کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ مسائل سے ٹکراؤ کو اپنا نشانۂ عمل نہ بنانا، بلکہ مسائل کے مقام سے ہٹ کر مواقع کی زمین کو اپنے عمل کا محور بنا لینا۔ یہ اصولِ شریعت اور عقل دونوں کے عین مطابق ہے۔ جب بھی کوئی شخص یا گروہ اس کو اختیار نہیں کر پاتا تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کا معاملہ پیش آنے کے بعد اس کو اپنے لیے ساکھ، یعنی prestige، کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔
مگر عقلمندی یہ ہے کہ کسی معاملے کو کسی بھی حال میں عزت و وقار کا مسئلہ نہ بنایا جائے، تاکہ اس کے حل کا ممکن راستہ کھلا رہے۔ کسی معاملے کو عزت و وقار کا مسئلہ بنانا اس کو ایسی حد پر لے جانا ہے جہاں حل کی کوئی بھی تدبیر کارگر نہ رہے۔ میدانِ عمل کو بدلنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ جب ایک جگہ کام کو جاری رکھنے کے مواقع نہ ہوں تو دوسرے موضوع مقام کو اپنے لیے منتخب کر لینا۔
جنگ کا طریقہ مؤثر نہ ہو رہا ہو تو صلح کا طریقہ اختیار کر لینا۔ ٹکراؤ سے مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو پرامن گفت و شنید کے ذریعے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ براہِ راست جدوجہد مفید ثابت نہ ہو رہی ہو تو بالواسطہ جدوجہد کے طریقے کو اپنا لینا۔ وغیرہ۔
اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 272۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.