دشمن بھی دوست۔ قرآن کی سورہ نمبر 41 میں ارشاد ہوا ہے کہ "اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں"۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ حامیم السجدہ 34۔
بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے آدمی کی بات بری لگ جاتی ہے۔ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو آدمی کے جذبات کو بھڑکا دیتے ہیں۔ ایسے موقع پر جواب کی دو صورتیں ہیں: ایک منفی ردعمل اور دوسرے مثبت ردعمل۔ منفی ردعمل یہ ہے کہ ناخوشگوار بات پیش آئے تو آدمی کے اندر غصہ بھڑک اٹھے، اور غصے کے تحت وہ جوابی کارروائی شروع کر دے۔
اس قسم کی جوابی کارروائی صرف مسئلے کو بڑھاتی ہے، اس سے باہمی تلخیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ابتدائی مخالفت آخر کار دشمنی تک پہنچ جاتی ہے۔ جواب دینے والے نے اپنے خیال کے مطابق مسئلے کو ختم کرنے کے لیے جواب دیا تھا، مگر اس کا جواب فریق ثانی کو مزید بھڑکا کر مسئلے میں اور اضافہ کر دیتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب کسی کی طرف سے کوئی ناخوشگوار بات پیش آئے تو آدمی اس کے مقابلے میں جوابی انداز اختیار نہ کرے۔
وہ کبھی خاموشی اختیار کر لے، اور اگر بولنا ہو تو وہ کڑوے بول کا جواب میٹھے بول سے دے۔ وہ انتقامی جذبے کے تحت کارروائی کرنے کے بجائے اصلاحی جذبے کے تحت اپنی مثبت کوششیں جاری کر دے۔ پہلا رویہ اگر دشمنی میں اضافے کا سبب بنا تھا تو دوسرا رویہ دشمن کو دوست بنانے کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ پہلے رویے نے اگر مسئلے کو بڑھایا تھا تو دوسرا رویہ مسئلے کو جڑ سے ختم کر دے گا۔
انسان کے اندر ضمیر بھی ہے اور انا بھی۔ اگر آپ کسی انسان کے ضمیر کو جگائیں تو ایسے انسان کو آپ اپنا دوست اور ہمدرد بنا لیں گے۔ اور اگر آپ ایسا رویہ اختیار کریں جو آدمی کی انانیت کو بھڑکانے والا ہو تو برعکس طور پر یہ ہوگا کہ آدمی آپ کا مخالف اور دشمن بن جائے گا۔ ہر شخص کے اندر آپ کا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے، اور اسی کے ساتھ آپ کا دشمن انسان بھی۔
آپ کا ایک رویہ اس شخص کو آپ کا دوست بنا دیتا ہے، اور آپ کا دوسرا رویہ اس کو آپ کا دشمن۔ اب یہ آپ کا اپنا حوصلہ ہے کہ آپ دونوں میں سے کس کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسلامک تعارف: مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 271۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.