Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Dohra faayeda,Dohra noqsaan

Urdu · 4 min

دوہرا فائدہ، دوہرا نقصان۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ نیک عمل کریں گے، اُن کو خدا دگنا انعام دے گا۔ سورہ قصص، آیت 54۔ اسی طرح قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ برائی کریں گے، اُن کو بھی خدا اُن کی برائی کی دگنا سزا دے گا۔

سورہ الاعراف، آیت 37۔ قرآن میں یہ بات آخرت کے اعتبار سے کہی گئی ہے۔ آخرت انسان کے لیے ابدی انعام اور ابدی سزا کی جگہ ہے۔ وہاں کے لیے خدا نے یہ قانون مقرر کیا ہے کہ دنیا میں جو آدمی اچھا یا برا عمل کرے، وہ آخرت میں اُس کا دگنا بدلہ پائے۔

گویا کہ ہر عمل کا بیک وقت دوہرا پہلو ہے، خواہ وہ عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے اچھا ہو یا برا۔ یہی معاملہ دنیا کا بھی ہے۔ دنیا میں آدمی اگر کوئی صحیح اقدام کرے تو اُس کو اپنے صحیح اقدام کا دگنا فائدہ ملے گا۔ اس کے برعکس، اگر کوئی شخص غلط اقدام کرے تو اُس کو بھی اپنے غلط اقدام کا دگنا انجام بھگتنا پڑے گا۔

یہ فطرت کا اٹل قانون ہے، وہ کبھی اور کسی کے لیے بدلنے والا نہیں۔ مثلاً آپ ایک ماحول میں ہوں اور وہاں اپنے لیے ایک مطلوب زندگی حاصل کرنا چاہیں، تو اُس کی ایک شکل یہ ہے کہ آپ کچھ لوگوں کو اپنی راہ کی رکاوٹ سمجھ کر اُن سے لڑائی شروع کر دیں۔ اس قسم کا متشددانہ اقدام بلاشبہ ایک غلط اقدام ہوگا۔ ایسے کسی اقدام کا نتیجہ انسان کو بیک وقت دو نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے: ایک یہ کہ متشددانہ کارروائی کے نتیجے میں ماحول کے ساتھ آپ کی جنگ شروع ہو جائے، آپ دوسروں کے خلاف تشدد کریں اور وہ آپ کے خلاف تشدد کریں۔

اس کے نتیجے میں یہ ہو کہ اقدام سے پہلے جو کچھ آپ کو ملا ہوا تھا، اُس کو بھی آپ کھو دیں۔ اس قسم کی کارروائی کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ ٹکراؤ سے باہر جو تعمیری مواقع آپ کو عملاً ملے ہوئے تھے، وہ سب کے سب استعمال ہونے سے رہ گئے۔ اس کے بجائے اگر آپ خاموش اور پرامن انداز میں اپنے مقصد کے حصول کی کوشش کریں تو یہ بلاشبہ ایک صحیح اقدام ہوگا، اور دوبارہ آپ کو اُس کا دوہرا فائدہ ملے گا۔ ایک یہ کہ آپ غیر ضروری ٹکراؤ سے بچ کر اپنے مقصد کی طرف تدریجی سفر کرتے رہیں گے۔

اسی کے ساتھ دوسرا فائدہ آپ کو یہ ملے گا کہ آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ ماحول میں موجود تعمیری امکانات کو اپنے حق میں استعمال کریں، یہاں تک کہ ایک نئے اور بہتر مستقبل کے مالک بن جائیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 270۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.