عقلمند کون؟ اسلام کے دوسرے خلیفہ راشد، حضرت عمر فاروق نے کہا کہ عقلمند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے، بلکہ عقلمند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے خیر کون سا ہے۔ ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، ولكنه الذي يعرف خير الشرّين. (العبقريات الإسلامية للعقاد، صفحہ 505) زندگی کا معاملہ بے حد نازک معاملہ ہے۔
یہاں ہر انسان کو آزادی ہے، ہر انسان اپنی اپنی دوڑ لگا رہا ہے، ہر انسان اپنے مقصد کے حصول میں مصروف ہے۔ اس لیے یہاں کسی کو بھی اپنے عمل کے لیے کھلا میدان نہیں ملتا۔ ہر ایک کو بھری ہوئی سڑک پر اپنا راستہ طے کرنا ہوتا ہے۔ اس صورتحال نے اس کو ناممکن بنا دیا ہے کہ آدمی اپنی خواہش کے مطابق اپنے لیے کامل معنوں میں ایک معیاری دنیا پا لے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کسی آدمی کے لیے جو انتخاب ہے وہ خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ اس میں ہے کہ دو شر میں سے کمتر شر کون سا ہے۔ اس دنیا میں کمتر شر پر راضی ہونا دانشمندی ہے، اور کمتر شر پر راضی نہ ہو کر خیرِ کامل کے لیے دوڑنا بے دانشی ہے۔ کیونکہ ایسا خیر اس دنیا میں کسی کو ملنے والا ہی نہیں۔ کمتر شر پر راضی ہونے والا اپنے لیے عمل کا آغاز پا لیتا ہے۔
اس کا تعمیری عمل فوراً ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ کمتر شر پر راضی نہ ہوں، وہ غیر ضروری طور پر اس سے لڑ جائیں گے، صرف اس لیے کہ ایک کمتر شر کو ہٹا کر دوبارہ دوسرے کمتر شر کو اپنے اوپر مسلط کر لیں، اور مزید اس نقصان کو بھگتیں کہ تعمیر و ترقی کے لیے عمل کرنے کے جو مواقع انہیں حاصل تھے، وہ استعمال ہوئے بغیر رہ گئے۔ جو آدمی حقیقت کا گہرا شعور رکھتا ہو، وہ یہی کرے گا کہ کمتر شر پر راضی ہو کر اپنی قوتوں کو مثبت تعمیر کے میدان میں لگا دے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ گہری سوجھ بوجھ نہ رکھتے ہوں، وہ خیرِ کامل کے حصول کے نام پر بے معنی لڑائی چھیڑ دیں گے، اور جب اس کا یہ انجام سامنے آئے گا کہ ملے ہوئے مواقع بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئے، تو وہ اپنے مفروضہ دشمنوں کی مذمت کرنے لگیں گے، حالانکہ جو نقصان انہیں پیش آیا ہوگا وہ خود ان کی نادانی کا نتیجہ ہوگا، نہ کہ کسی دوسرے کی ظلم و زیادتی کا نتیجہ۔
ملے ہوئے پر راضی ہونا آدمی کے لیے ترقی کا دروازہ کھولتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو جان لیں، وہی اس قابل ہیں کہ انہیں دانشمند کہا جائے۔ اسلامِ تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 265۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.