Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Fikri tawazun

Urdu · 4 min

فکری توازن۔ قرآن کی سورہ نمبر 75 میں ارشاد ہوا ہے کہ کوئی مصیبت نہ زمین میں آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں میں، مگر وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے، اس سے پہلے کہ ہم ان کو پیدا کریں۔ بے شک یہ خدا کے لیے آسان ہے، تاکہ تم غم نہ کرو اس پر جو تم سے کھویا گیا، اور نہ اس چیز پر فخر کرو جو اس نے تم کو دیا۔ اور خدا اترانے والے، فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

الحدید 22:23۔ موجودہ دنیا میں آدمی کبھی محرومی سے دوچار ہوتا ہے، اور اس کے زیرِ اثر وہ مایوسی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کبھی وہ کامیابی کا تجربہ کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں وہ گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ دونوں ہی صورتیں ہلاکت کی صورتیں ہیں، ان میں سے کوئی بھی انسان کو ترقی کی طرف لے جانے والی نہیں۔

انسان جب کھوتا ہے تو وہ کیوں کھوتا ہے، اور جب وہ پاتا ہے تو وہ کیوں پاتا ہے؟ دونوں ہی کا تعلق فطرت کے نظام سے ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے، اس کا پورا نظام اسی مصلحت کے اصول پر قائم ہے۔ یہاں کھونے کا واقعہ بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے، اور پانے کا واقعہ بھی امتحان کا ایک پرچہ۔

ایسی حالت میں انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ دونوں ہی قسم کے واقعے کو امتحان کے نقشے میں رکھ کر سمجھے، نہ کہ انہیں صرف اپنے ذاتی واقعے کے طور پر دیکھنے لگے۔ انسان کو جاننا چاہیے کہ اس نے جب کھویا تو اسی لیے کھویا کہ فطرت کے نقشے میں ایسا ہی ہونا مقدر تھا۔ اسی طرح جب اس نے پایا تو اس لیے پایا کہ فطرت کے نقشے کا تقاضا یہی تھا۔ دونوں حالتوں میں اصل کارفرما حیثیت فطرت کی ہے، نہ کہ آدمی کی اپنی خواہشوں یا کوششوں کی۔

آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کے اندر اپنے آپ یکسانیت آ جائے گی۔ وہ دونوں قسم کے تجربوں کے درمیان معتدل روش پر قائم رہے گا۔ یہ عقیدہ آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ نقصان کا تجربہ پیش آنے کی صورت میں مایوس ہو جائے، اور اس طرح وہ اپنے آپ کو غیر ضروری طور پر ایک اور نقصان میں مبتلا کر لے۔ اسی طرح یہ عقیدہ آدمی کو اس سے بچاتا ہے کہ وہ کامیابی کا تجربہ پیش آنے کی صورت میں فخر الناس کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے، اور اس کے نتیجے میں وہ اپنی دنیا کو بھی تباہ کر لے اور آخرت کو بھی۔

اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 266۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.