دانش مندی۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "دانش مند سے رہنمائی حاصل کرو، تم راہ یاب ہو گے" اور اس کے خلاف نہ کرو، ورنہ تم پشیمان ہو گے۔ استرشدوا العاقلة، ترشدوا، ولا تعصوه فتندموا. ادب الدنیا والدین البصری، صفحہ 475۔
انسان سب یکساں نہیں ہوتے؛ کسی کے پاس علم کم ہوتا ہے اور کسی کے پاس علم زیادہ۔ کوئی زیادہ تجربے کار ہوتا ہے اور کوئی کم تجربے کار۔ اسی طرح کوئی شخص فطری طور پر زیادہ سوجھ بوجھ والا ہوتا ہے اور کوئی کم سوجھ بوجھ والا۔ یہ فرق اس لیے ہے تاکہ لوگ ایک دوسرے سے فائدہ اٹھائیں۔
ایک آدمی اگر اپنے اندر کمی پائے تو وہ دوسرے کے ذریعے اپنی اس کمی کو پورا کرے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، اور جو چیز خود فطرت کے نظام سے تعلق رکھتی ہو، اس سے موافقت کر کے ہی آدمی کامیاب ہوتا ہے۔ فطرت کے نظام کی خلاف ورزی کرنے کا انجام تباہی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانے، اور اسی کے ساتھ وہ دوسرے سے بھی واقفیت رکھتا ہو۔
جو آدمی اس طرح بے لاغ طور پر اپنے آپ کو اور دوسرے کو جانے گا، اس کا مزاج یہی ہوگا کہ ہر موقع پر وہ ان لوگوں سے رہنمائی حاصل کرے گا جو اس سے زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں یا علم اور تجربے میں اس سے بڑھے ہوئے ہیں۔ اور ایسے لوگوں سے اس کو جو رہنمائی ملے گی، اس کو وہ کھلے دل سے قبول کر لے گا، کیونکہ وہ جانے گا کہ ایسے موقع پر کوئی اور عمل کرنا اس کی تباہی کے سوا کہیں اور نہیں جاتا۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ ایسے موقع پر کوئی اور عمل کرنا اس کو تباہی کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں۔ کوئی آدمی جب دانش مند کی بات کو نہیں مانتا تو وہ کیوں ایسا کرتا ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے معاملے کو اپنے لیے ساکھ کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے دوسرے کی بات مان لی تو میں اس کے مقابلے میں نیچا ہو جاؤں گا۔ مگر اس طرح کی سوچ سراسر نادانی کی سوچ ہے۔ اس طرح کے معاملے کو ساکھ یا عزت نفس کا مسئلہ بنانا، اپنی کامیابی اور ترقی کے دروازے کو خود اپنے ہاتھوں سے بند کر لینا ہے۔
دانش مند کی بات کو نہ ماننا، بظاہر دوسرے کی بات کو نہ ماننا ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ خود اپنا انکار ہے۔ آدمی جب کسی دوسرے کی ایک سچی بات کو نہیں مانتا تو وہ گویا خود اپنی فطرت اور اپنے ضمیر کو رد کر رہا ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 263۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.