نصیحت بزیری حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعادت مند وہ ہے جو اپنے سوا دوسرے سے نصیحت حاصل کرے السعيد من وعظ بغيره. ادب الدنیا والدین البصری، صفحہ 561۔ نصیحت حاصل کرنے کا تعلق نصیحت پسند مزاج سے ہے؛ کوئی آدمی جتنا زیادہ نصیحت کو قبول کرنے کا مزاج اپنے اندر رکھتا ہو، اتنا ہی زیادہ وہ نصیحت حاصل کرے گا۔ خود اپنے اندر نصیحت پسندی کا مزاج نہ ہو تو وہ کچھ بھی نصیحت نہ حاصل کر سکے گا، خواہ وہ نصیحتوں کے ڈھیر کے درمیان زندگی گزار رہا ہو۔
جس آدمی کے اندر نصیحت لینے کا مزاج بیدار ہو گیا ہو، وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ کوئی اس کو بتائے تب اس کو نصیحت ملے؛ بلکہ وہ دوسروں کو دیکھ کر ان سے نصیحت پکڑتا رہتا ہے۔ وہ کسی کو اچھا کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اپنے آپ اس کے اندر اس کی پیروی کا شوق پیدا ہوتا ہے، اور وہ خود بھی ویسا ہی کرنے لگتا ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اس کے سامنے غلط بات بولے یا غلط کام کرے تو ایسا واقعہ بھی اس کے لیے نصیحت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ وہ اس کو سن کر یا دیکھ کر چونکا نہ ہو جاتا ہے، اور اپنے اندر یہ عزم کر لیتا ہے کہ وہ کبھی ایسی بات نہیں بولے گا اور نہ کبھی ایسا کام کرے گا۔ اس معاملے میں انسان کی مثال بارش جیسی ہے؛ کسی میدان میں بارش ہو تو وہ چٹانوں پر بھی گرتی ہے اور کھیت کی زرخیز زمینوں پر بھی، لیکن چٹان کے اوپر گرنے والا پانی اوپر اوپر بہہ جاتا ہے، وہ اس کے اندر داخل نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس کھلی زمین میں جو پانی گرتا ہے، وہ اس کے اندر جذب ہو جاتا ہے اور ہری بھری فصل پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ کوئی آدمی بھی کامل نہیں؛ ہر آدمی کی ضرورت ہے کہ اس کو نصیحت ملے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر کے اپنی شخصیت کو مکمل کر سکے، لیکن یہ عمل نصیحت پذیر ذہن کے بغیر انجام نہیں پا سکتا۔ سعادت مند شخص وہ ہے جو اپنے ذہن کو نصیحت سننے اور نصیحت قبول کرنے کے لیے کھلا رکھے؛ کوئی نفسیاتی پیچیدگی اس کے لیے نصیحت کو قبول کرنے میں رکاوٹ نہ بنے۔ وہ ہر حال میں نصیحت سے فائدہ اٹھائے، حتیٰ کہ اس کی نصیحت پذیری اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ وہ بگڑے ہوئے لوگوں سے بھی اصلاح کا سبق حاصل کر لے۔
نصیحت اگرچہ دوسرے سے ملتی ہے، لیکن وہ آدمی کا اپنا معاملہ ہے؛ وہ ہر آدمی کی خود اپنی ضرورت ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 262۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.