کامیابی کا راز حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی پسندیدہ چیز کو صرف اس وقت پا سکتے ہو جبکہ تم اپنی ناپسندیدہ چیز پر صبر کرو، اور جو کچھ تم چاہتے ہو اس کو تم اپنی خواہشوں کو چھوڑے بغیر حاصل نہیں کر سکتے۔ إنكم لا تنالون ما تحبون إلا بالصبر على ما تكرهون، ولا تبلغون ما تهوون إلا بترك ما تشتهون. ادب الدنیا والدین البصری، صفحہ 86۔ موجودہ دنیا فطرت کے جس اصول پر قائم ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پانے کے لیے کھونا پڑتا ہے۔
یہاں ایک پسندیدہ چیز کو حاصل کرنے کے لیے کسی دوسری پسندیدہ چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہاں کامیابی کی منزل پر پہنچنا اس کے لیے مقدر ہے جو راستے کی ناکامیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ اسی کا نام صبر ہے۔ صبر کی صفت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنی مطلوب چیز کو حاصل کرنے کی ضروری قیمت ادا کر سکے۔
صبر آدمی کو حوصلہ مند بناتا ہے۔ صبر کے ذریعے آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ان ناخوشگواریوں کو پرسکون طور پر جھیل سکے جن کا پیش آنا ہر معاملے میں ضروری ہے، خواہ وہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا معاملہ۔ خواہ وہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا معاملہ ہو۔ درخت سے پھول لینے کے لیے آدمی کو کانٹوں سے نباہ کرنا پڑتا ہے۔
اسی طرح سماج کے اندر اپنے کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ان ناخوشگواریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے جو لازمی طور پر دوسروں کی طرف سے پیش آتی ہیں۔ آدمی کا مقصد جتنا زیادہ بلند ہو اتنی ہی زیادہ دشواریاں اس کی راہ میں پیش آتی ہیں۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ آدمی اس قسم کی تمام ناگواریوں کو گوارا کرے تاکہ وہ اپنی پوری قوت کو یکسوئی کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول میں لگا سکے۔ ناخوشگواریوں پر صبر کرنا اپنے اندر ایک مثبت پہلو رکھتا ہے۔
اس سے قوت ارادی بیدار ہوتی ہے، وہ آدمی کے عملی جذبے کو بڑھاتی ہے۔ اس طرح آدمی مزید اضافے کے ساتھ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد کو زیادہ کامیابی کے ساتھ جاری رکھ سکے۔ اس دنیا میں ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہاں آدمی اپنی ایک خواہش کی تکمیل اس وقت کر پاتا ہے جبکہ وہ اپنی ایک اور خواہش کو اس کی خاطر چھوڑ دے۔
اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 260۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.