حقیقت کی اہمیت: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "تھوڑا علم زیادہ عبادت سے بہتر ہے"۔ قليل العلم خير من كثير العبادة. ادب الدنیا والدین للبصری، صفحہ 114۔ اس حدیث میں جو تقابل ہے وہ حقیقی علم اور ظاہری عبادت کے درمیان ہے، نہ کہ سادہ طور پر صرف علم اور عبادت کے درمیان۔
یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اگر ظاہری عبادت بہت زیادہ کرے تو اتنی قابلِ قدر بات نہیں ہے جتنا یہ بات کہ ایک شخص علم میں محنت کرے اور اس سے حکمت و معرفت کا خزانہ حاصل کر لے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود عبادت کا تعلق علم سے بہت گہرا ہے۔ جو آدمی گہرا علم رکھتا ہو وہ اسی کے ساتھ گہری معرفت والا انسان ہوگا، اور یہ گہری معرفت ہی عبادت کی اصل روح ہے۔ عبادت صرف ظاہری مراسم کا نام نہیں ہے، بلکہ اس اسپرٹ کا نام ہے جو عبادت کے اندر موجود ہوتی ہے۔
یہ اسپرٹ ہی عبادت کو عبادت بناتی ہے، اور یہ اسپرٹ علم کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ علم آدمی کے ذہن کو جگاتا ہے، وہ اس کو بے شعوری سے نکال کر شعور کے مرحلے میں پہنچاتا ہے۔ وہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال کر سکے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھے اور اس کے لیے کامیاب منصوبہ بندی کرے۔
موجودہ دنیا میں آدمی کے اوپر بیک وقت دو ذمہ داریاں ہیں: ایک خدا کی نسبت سے اور دوسرے انسان کی نسبت سے۔ انہی دونوں ذمہ داریوں کو صحیح طور پر ادا کرنے کا نام کامیابی ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک ذمہ داری بھی اگر چھوٹ جائے تو آدمی کی زندگی ادھوری رہ جائے گی۔ وہ کامل انسان کہلانے کا مستحق نہیں قرار پائے گا۔
علم انہی دونوں ذمہ داریوں کا صحیح شعور دیتا ہے۔ وہ آدمی کو کامل منصوبہ بندی کے قابل بناتا ہے۔ کسی چیز کی اہمیت اس کے باطن سے ہوتی ہے، نہ کہ اس کے خارج سے۔ وہی انسان کامیاب ہے جو باطنی اہمیت والی چیز اپنے اندر رکھتا ہو۔
صرف خارجی ظواہر نہ خدا کی نظر میں قابلِ قدر ہیں اور نہ انسان کی نظر میں۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 259۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.