علم کی اہمیت: حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم خزانے کی مانند ہے، اور اس کی کنجی سوال ہے۔ اللہ تم پر رحم کرے، تم سوال کیا کرو، کیونکہ علم میں تین لوگ اجر پاتے ہیں: کہنے والا، سننے والا، اور لے لینے والا۔ العلم خزائن ومفتاحه. العلم خزائن ومفتاحه المسألة.
فاسألوا رحمكم الله، فإنما يوجَر في العلم ثلاثة: القائل، والمستمع، والآخذ. ادب الدنیا والدین البصری، صفحہ 110۔ علم کی دنیا ایک لامحدود دنیا ہے؛ یہ دنیا معلومات کے خزانے سے بھری ہوئی ہے۔ کوئی بھی شخص ایسا نہیں ہے جو سارے علوم اور تمام معلومات اپنے دماغ میں بھرے ہوئے ہو۔
کسی کے پاس اس کا کچھ حصہ ہے، اور کسی کے پاس اس کا کچھ۔ مختلف انسانوں کے پاس جمع شدہ یہ خزانہ آپ کو کس طرح ملے؟ اس کی صورت صرف ایک ہے: وہ یہ کہ آپ اس کے طالب بن جائیں۔ آپ کے دل میں ان کو حاصل کرنے کا بے پناہ شوق پیدا ہو جائے۔
جب ایسا ہوگا تو آپ لوگوں سے پوچھنے لگیں گے، تاکہ ان کے پاس جمع شدہ معلومات کو لے کر اپنے علمی ذخیرے کو بڑھائیں۔ آپ اہل علم کی کتابیں پڑھیں گے، تاکہ ان کے اندر علم کا جو خزانہ بند ہے، اپنے آپ کو اس کا حصہ دار بنا سکیں۔ انسان کی ساری اہمیت علم کے اعتبار سے ہے؛ جو انسان جتنا زیادہ علم والا ہوگا، اتنا ہی زیادہ وہ قابلِ قدر ہوگا۔ زندگی کی ہر ترقی براہِ راست طور پر علم سے جڑی ہوتی ہے؛ جتنا زیادہ علم، اتنا ہی زیادہ ترقی۔
علم کے معاملے میں ہر آدمی کی تین میں سے کوئی ایک حیثیت ہوتی ہے: قائل، مستمع، آخذ۔ یعنی کہنے والا، اور سننے والا، اور ماننے والا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جس حیثیت میں پائے، وہ اس کا پورا حق ادا کرے۔ اگر اس کو بولنے کا موقع مل رہا ہے تو وہ ذمہ دارانہ کلام کرے، وہ وہی بولے جو اس کو بولنا چاہیے۔
وہ ایسا کلام نہ کرے جو حقیقتِ واقعے سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔ اس کا بولنا حقیقت کے اظہار کے لیے ہو، نہ کہ خود نمائی کے لیے۔ اسی طرح جو سن رہا ہے، اس پر بھی لازم ہے کہ وہ سننے کا حق ادا کرے۔ وہ کہی ہوئی بات کو پورے دھیان کے ساتھ سنے، اور اس کو اسی معنی میں لے جس معنی میں لینے والے نے اس کو کہا ہے۔
اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 258۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.