زہد کا فائدہ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا سے بے رغبت ہو جاؤ، تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے رغبت ہو جاؤ، تم لوگوں کے محبوب بن جاؤ گے۔ أَزْهِدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبُّكَ اللَّهُ وَأَزْهِدْ فِي مَا فِي أَيْدِ النَّاسِ يُحِبُّكَ النَّاسُ. ادب الدنیا و الدین 301 عزت و محبت کا راز بے نیازی ہے۔
آدمی کے اندر جتنا زیادہ بے نیازی کی کیفیت پیدا ہوگی، اتنا ہی زیادہ لوگوں کے لیے اس کی کشش بڑھتی چلی جائے گی۔ خدا سے قریب ہونے کا راز دوسروں سے دور ہونا ہے۔ آدمی جتنا زیادہ دوسری چیزوں سے بے رغبت ہوگا، اتنا ہی زیادہ وہ خدا کے بارے میں سوچے گا اور خدائی چیزوں میں مشغول ہوگا۔ اس کے برعکس، آدمی جتنا زیادہ دوسری چیزوں میں اپنا دل لگائے گا، اتنا ہی وہ خدا کی طرف سے غفلت میں پڑ جائے گا۔
دوسری چیزوں سے تعلق کا بڑھنا خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو گھٹانا ہے۔ اسی طرح خدا سے اپنے تعلق کو بڑھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا قلبی تعلق دوسری چیزوں کے ساتھ باقی نہیں رہتا۔ لوگ ایسے آدمی کی عزت کرتے ہیں جس کو وہ اپنے سے اونچا سمجھتے ہوں۔ جو آدمی انہیں اپنے برابر یا اپنے سے کم دکھائی دے، اس کے لیے لوگوں کے اندر عزت و قدردانی کا اعلیٰ جذبہ پیدا نہیں ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ جو آدمی سماج میں اس طرح رہے کہ وہ دوسروں سے بے نیاز بنا ہوا ہو، وہ دوسروں سے کسی چیز کا امیدوار نہ ہو، ایسا انسان اپنے آپ دوسروں کے درمیان اونچا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ کسی کی کوشش کے بغیر وہ دوسروں کی نظر میں محترم بن جاتا ہے۔ دنیا کی چیزوں سے بے رغبتی آدمی کو بیک وقت دو فائدے دیتی ہے: ایک طرف وہ پر عافیت زندگی کا مالک بن جاتا ہے، وہ اعلیٰ حقیقتوں میں جینے لگتا ہے۔ دوسری طرف یہ ہوتا ہے کہ سماج کے درمیان اپنے آپ عزت و احترام کا مقام حاصل ہو جاتا ہے۔
وہ اپنی نظر میں بھی باعزت آدمی بن جاتا ہے اور دوسروں کی نظر میں بھی۔ زاہدانہ زندگی نام ہے چھوٹی چیز کو کھو کر زیادہ بڑی چیز کو پا لینا۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 257۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.