ضرورت نہ کہ حرص۔ حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی بقدرِ ضرورت پر قناعت نہ کرے تو وہ ساری زندگی غیر مطمئن حالت میں رہے گا۔ من لا يجزيه من العيش ما يكفيه، لم يجد ما عاش ما يغنيه. ادب الدنیا والدین البصری، صفحہ 299۔
مطمئن زندگی کا تعلق زیادہ سے نہیں ہے بلکہ قناعت سے ہے۔ جو آدمی ضرورت کے بقدر پا کر مطمئن ہو جائے، وہی اس نعمت کو پا سکتا ہے جس کو اطمینان کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی ضرورت کے بجائے خواہش کو اپنا معیار بنائے، وہ کبھی اطمینان کی زندگی نہیں پا سکتا۔ کیونکہ ضرورت کی ایک حد ہے، مگر خواہش اور حرص کی کوئی حد نہیں۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ ضرورت اور حرص میں فرق کرے۔ وہ اپنی جدوجہد کا نشانہ ضرورت کی تکمیل کو بنائے، نہ کہ خواہش کی تکمیل کو۔ جب ضرورت کو نشانہ بنایا جائے تو ہر چیز اپنی فطری جگہ پر رہتی ہے۔ آدمی ضرورت کی فراہمی کے بعد اس کا وقت پا لیتا ہے کہ وہ زندگی کے اعلیٰ مقاصد میں بھی اپنے آپ کو مصروف کر سکے۔
اس کے برعکس، جب ضرورت کے بجائے حرص کو نشانہ بنا لیا جائے تو آدمی صرف کمانے والا حیوان بن جاتا ہے۔ اس کے پاس کوئی ایسا وقت نہیں بچتا جس میں وہ اعلیٰ انسانی تقاضوں کی تکمیل میں اپنا حصہ ادا کر سکے۔ ضرورت کو نشانہ بنانے کی صورت میں زندگی کا نظام اپنے فطری دائرے میں ہوتا ہے۔ اس کے بجائے جب ضرورت کی حد سامنے نہ رکھی جائے، بلکہ اپنی خواہش کو اپنا رہنما بنا لیا جائے، تو زندگی کا فطری نقشہ بگڑ جاتا ہے۔
اور اس دنیا میں پرعافیت زندگی وہی ہے جو فطرت کے نقشے پر گزاری جائے۔ حرص کا معاملہ ہمیشہ مادی چیزوں میں پیش آتا ہے، نہ کہ اعلیٰ اقدار میں۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنی حرص کے پیچھے دوڑے، اس نے گویا اپنی آدمیت کو گھٹا لیا۔ کیونکہ مادی ضروریات آدمی کی زندگی کا جز ہیں، نہ کہ کل۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اعلیٰ انسانی مقاصد کو اپنی زندگی میں پہلی اہمیت کا درجہ دے، اور مادی چیزوں کی فراہمی کو دوسرے درجے میں رکھے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 256۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.