ذہنی ارتقاء: الترمذی نے حضرت سعید الخضری کی ایک روایت نقل کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن خیر کی بات سننے سے کبھی سیر نہیں ہوتا، یہاں تک کہ وہ جنت کی منزل تک پہنچ جائے۔ لَنْ يَشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَيْرٍ يَسْمَعُهُ حَتَّى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةُ. جامع الاصول فی احادیث الرسول، جلد 8، صفحہ 9۔ آدمی کو چاہیے کہ سیکھنے کا جذبہ اس کے اندر مسلسل بیدار رہے، وہ ہمیشہ نئی بات سیکھنے کا خواہش مند ہو، وہ اپنے تجربے اور واقفیت میں ہر روز اضافہ کرتا رہے، یہاں تک کہ اسی حال میں اس پر موت آ جائے۔
معلومات کی دنیا لامتناہی حد تک وسیع ہے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتی، اس لیے ایک سچا انسان کبھی نئی نئی باتیں سیکھنے سے سیر نہیں ہوتا، وہ اپنے دماغ کے خزانے میں ہر صبح و شام اضافہ کرتا رہتا ہے۔ یہی اضافہ انسانی ترقی کا راز ہے۔ اس طرح آدمی کا ذہنی ارتقاء مسلسل جاری رہتا ہے، وہ سوچنے اور عمل کرنے کے نئے راستے دریافت کرتا رہتا ہے۔ اس کے سامنے کوئی حقیقت آتی ہے تو وہ فوراً اس کو اس کی گہرائی تک سمجھ لیتا ہے، لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ پڑتا ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ کامیاب معاملے کا طریقہ کیا ہے۔
اس کے سامنے ایک راستہ بند ہوتا ہے تو وہ اپنے سفر کو جاری رکھنے کے لیے فوراً ہی دوسرا راستہ پا لیتا ہے۔ ایسے آدمی کی بڑھی ہوئی ذہنی استعداد اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ وہ حق کو حق کے روپ میں دیکھے اور باطل کو باطل کے روپ میں پہچان لے۔ وہ چیزوں کو ویسے ہی دیکھتا ہے جیسے کہ وہ ہیں، نہ کہ دکھانے والے جس روپ میں اس کو دکھا دیں۔ ایسا آدمی اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ وہ شبہات کا پردہ پھاڑ کر سچائی کو دیکھے، وہ مغالطہ اور استدلال کے درمیان فرق کر سکے، وہ جان لے کہ جذباتی نقطہ نظر کیا ہے اور عقلی نقطہ نظر کیا۔
ایسے آدمی کے اندر وہ چیز پرورش پاتی ہے جس کو تخلیقی ذہن کہا جاتا ہے، وہ چیزوں کو از سر نو دریافت کرتا ہے، وہ تخلیق سے اوپر اٹھ کر مجتہدانہ رائے بنانے کے قابل ہو جاتا ہے، وہ ظواہر کا پردہ پھاڑ کر حقیقت کو دیکھنے لگتا ہے، وہ اپنے آپ کو بھی زیادہ بہتر طور پر جان لیتا ہے، اور دوسروں کے بارے میں بھی اس کے اندر زیادہ صحیح پہچان پیدا ہو جاتی ہے۔ عام انسان اگر صرف انسان ہوتا ہے تو ایسا آدمی پورے معنی میں ایک ترقی یافتہ انسان ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 252۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.