منفی سوچ نہیں۔ ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا، اس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی۔ یہ غزوہ ہر اعتبار سے مخالفینِ اسلام کی جارحیت اور زیادتی پر مبنی تھا۔ بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ قرآن میں اس پر مخالفین کے لیے مذمت کی آیتیں اتریں، مگر برعکس طور پر قرآن میں وہ آیتیں اتریں جن میں خود مسلمانوں کو نصیحت کی گئی تھی۔
قرآن میں مسلمانوں سے کہا گیا کہ اگر احد کے موقع پر تم کو زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے بدر کے موقع پر فریقِ ثانی کو زخم پہنچ چکا ہے۔ اور یہ ایام ہم اسی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ فَإِنْ أَصَابَكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ، وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ. قرآن میں یہ انداز کیوں اختیار کیا گیا؟
اس کا راز یہ ہے کہ زندگی کی تمام ترقیاں ان لوگوں کو ملتی ہیں جو مثبت طرزِ فکر کے حامی ہیں۔ غزوۂ احد کے حادثے سے اندیشہ تھا کہ مسلمان انتقامی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں گے، اور اس طرح وہ مثبت ذہن کو کھو دیں گے۔ اس خطرے سے بچانے کے لیے قرآن میں مذکورہ قسم کا تبصرہ نازل کیا گیا: منفی نفسیات کے طوفان میں انہیں مثبت نفسیات کی طرف موڑ دیا گیا۔ یہی تدبیر دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپانیوں نے اختیار کی۔
دوسری عالمی جنگ میں امریکہ نے جاپان کے صنعتی شہر ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر اسے تباہ کر دیا تھا۔ اس کے بعد جاپانیوں میں امریکہ کے خلاف انتقام کی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ اس وقت جاپان کے دانشوروں نے یہ کہہ کر اپنی قوم کو ٹھنڈا کیا کہ اگر امریکہ نے 1945 میں ہمارے ہیروشیما کو تباہ کیا ہے تو اس سے پہلے 1941 میں ہم ان کے پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے۔ اب معاملہ برابر ہو گیا۔
اب آؤ ہم یکسو ہو کر مستقبل کی تعمیر کریں۔ دانشوروں کو اس صحیح رہنمائی نے جاپانی قوم کے لیے تباہی کے باوجود ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول دیا۔ یہی اس دنیا میں ترقی کا راز ہے: یہاں وہ لوگ ترقی کرتے ہیں جو منفی تجربے کے باوجود اپنی مثبت سوچ کو باقی رکھیں، جو مخالف حالات میں بھی اپنے لیے موافق امکانات تلاش کر لیں، جو ناکامیوں کے ہجوم میں اپنے لیے کامیابی کا نیا راستہ دریافت کر لیں۔ اس دنیا میں بڑی ترقی صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو خارج سے غیر متاثر رہ کر اپنا راستہ خود اپنی مثبت سوچ کے تحت بنائیں۔
اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 251۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.