قابلِ اعتماد کردار: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کے 13ویں سال، مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کی۔ یہ وہی سفر ہے جس کو "ہجرت" کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بے حد نازک سفر تھا۔ مکہ کے سردار آپ کو مار ڈالنے پر تلے ہوئے تھے۔
آپ کو نہایت مخفی طور پر مکے سے نکل کر مدینہ پہنچنا تھا۔ یہ یقینی تھا کہ جب آپ مکے سے نکل کر مدینے کے لیے روانہ ہوں گے تو مکے کے سردار آپ کے پیچھے اپنے آدمی دوڑائیں گے۔ وہ ہر کوشش کریں گے کہ آپ کو دوبارہ پکڑ لیں۔ ان حالات میں مختلف قسم کی احتیاط ضروری تھی۔
مثلاً مکے سے نکل کر الٹی طرف جانا، پہلے غارِ ثور میں قیام کرنا، ابتداً پیدل سفر طے کرنا، اور پھر راستے میں اونٹ کی سواری اختیار کرنا۔ معلوم اور معروف راستے کو چھوڑ کر غیر عادی راستے کا سفر کرنا، وغیرہ۔ قدیم زمانے میں جبکہ سڑکیں نہیں تھیں، اس طرح کا سفر ایک واقف کار رہنما کی مدد ہی سے ہو سکتا تھا۔ رہنما کے بغیر ایسا سفر طے کرنا ناممکن تھا۔
پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی حضرت ابوبکر نے اس سفر میں رہنمائی کے لیے مکے کے ایک شخص کو منتخب کیا جس کا نام عبداللہ بن ارخط تھا۔ یہ آدمی اس طرح کے لمبے سفروں میں بطور پیشہ رہنمائی کا کام کیا کرتا تھا۔ وہ اگرچہ مشرک تھا، بالفاظِ دیگر، اس کا تعلق آپ کی دشمن قوم سے تھا۔ اس کے باوجود آپ نے اس نازک سفر کے لیے اسی کا انتخاب فرمایا۔
سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 98۔ اس انتخاب کا سبب کیا تھا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ بن ارخط اگرچہ مخالف قوم سے تعلق رکھتا تھا، مگر اس کے اندر وہ چیز کمال درجے میں تھی جس کو "پروفیشنل دیانت داری" کہا جاتا ہے۔ یعنی اپنے کام کے بارے میں وہ پوری طرح مخلص تھا۔
وہ جس خدمت کی ذمہ داری کو قبول کرتا، اس کو ٹھیک ٹھیک انجام دیتا تھا۔ کام کے معاملے میں وہ نہ عقیدے کو رکاوٹ بناتا اور نہ کسی ذاتی مفاد کو۔ پروفیشنل دیانت داری کی یہ صفت آدمی کو سب کی نظر میں قابلِ اعتماد بنا دیتی ہے۔ حتیٰ کہ اس کے مخالفین بھی اس پر بھروسہ کرتے ہیں۔
اس کا قول لوگوں کی نظر میں چٹان کی طرح مضبوط بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اور غیر سب کی نظر میں عزت کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 247۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.