حکمت کی بات: حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حکمت کی بات مومن کا گمشدہ سرمایہ ہے، وہ جہاں اسے پائے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ " الحكمة ضالة المؤمن، أين وجدها فهو أحق بها. اس حدیثِ رسول میں خدا پرست انسان کا مزاج بتایا گیا ہے۔ خدا پرست انسان ہر قسم کے تعصب سے پاک ہوتا ہے، وہ اپنے اور غیر میں فرق نہیں کرتا۔
وہ تمام دنیا کو خدا کی مخلوق کی نظر سے دیکھتا ہے۔ وہ تمام انسانوں کو خدا کا کنبہ سمجھتا ہے۔ خدا پرست انسان کا یہ مزاج اس کو آفاقی بنا دیتا ہے۔ ایسا انسان ہر چیز سے سبق لینے لگتا ہے۔
وہ ہر کام کی بات کو اپنی بات سمجھتا ہے۔ اس کی آفاقی سوچ اس کو اس کمزوری سے بچا لیتی ہے کہ وہ کسی فائدے کی بات کو دیکھے تو اس کو غیر کی چیز سمجھ کر چھوڑ دے۔ وہ ہر اچھی بات کو خدا کی بات سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ ہر اچھی بات کو اس طرح لے لیتا ہے جیسا کہ وہ اس کی اپنی ہی بات ہو۔
خدا پرست انسان کا یہ مزاج اس کو بے پناہ بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے ذہنی خزانے میں نئی نئی باتوں کا اضافہ کرتا رہتا ہے۔ اس کی زندگی کبھی ٹکراؤ کا شکار نہیں ہوتی۔ وہ ہر موڑ پر ایسی باتیں پا لیتا ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنی زندگی کے سفر کو آگے کی طرف جاری رکھ سکے۔
دنیا میں کامیابی کا تعلق سب سے زیادہ جس چیز سے ہے وہ معلومات ہے۔ جتنی زیادہ معلومات، اتنی زیادہ کامیابی۔ خدا پرست انسان اپنے دماغ کی تمام کھڑکیاں کھلی رکھتا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ اس کی معلومات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔
خدا پرست انسان کا مزاج اس کو کامل طور پر علم کا طالب بنا دیتا ہے۔ نئی نئی باتوں سے اس کی روح کو غذا ملتی ہے۔ وہ درخت کی مانند ایک اضافہ پذیر وجود بن جاتا ہے۔ اس کی شخصیت مسلسل بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ تکمیل کی آخری حد پر پہنچ جاتا ہے۔
مومن ایک بے تعصب انسان ہوتا ہے۔ وہ آخری حد تک طالب حق ہوتا ہے۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر اس کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ جہاں بھی کوئی اچھی بات ملے، وہ فوراً اس کو لے لے۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 245۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.