علم کی اہمیت: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے میں اپنے دعوتی کام کا آغاز کیا۔ آپ کی دعوت مکمل طور پر ایک پرامن دعوت تھی، مگر مکہ والوں نے آپ کے خلاف ایک طرفہ طور پر تشدد شروع کر دیا۔ اس کے بعد آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکے سے مدینہ چلے گئے۔ اب مدینہ آپ کی دعوت کا مرکز بن گیا۔
تاہم مکے کے سردار اس پر راضی نہیں ہوئے۔ انہوں نے آپ کے خلاف مسلح جارحیت کی، جس کے نتیجے میں سن 2 ہجری میں وہ لڑائی پیش آئی جو غزوہ بدر کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں خدا نے پیغمبر اور ان کے ساتھیوں کی مدد فرمائی، اور وہ اپنے مخالفین پر کامیاب ہوئے۔ اس جنگ کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ اس میں مکے کے 70 آدمی گرفتار ہو کر مدینہ لائے گئے۔
یہ لوگ قدیم معیار کے مطابق پڑھے لکھے تھے، جبکہ مدینے میں پڑھائی کا رواج نہ تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کو ان قیدیوں کا فدیہ قرار دے دیا۔ آپ نے اعلان فرمایا کہ ان میں سے جو آدمی مدینے کے 10 بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے گا، تو اس کو ہم قید سے رہائی دے دیں گے۔ چنانچہ کئی قیدیوں نے اس طرح تعلیمی خدمت انجام دے کر رہائی حاصل کی۔
سیرت ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 512: یہ اسلام کی تاریخ میں پہلا مدرسہ تھا، جو پہلا موقع تھا جبکہ مسلم نوجوانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کا ایک نظام قائم کیا گیا تھا۔ اس مدرسے کے تمام کے تمام ٹیچر غیر مسلم تھے، بلکہ وہ دشمن قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں تعلیم کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ اس واقعے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ ہر حال میں تعلیم حاصل کرو، خواہ تم کو اغیار سے تعلیم حاصل کرنا پڑے، خواہ تم کو ایک ایسے ادارے میں پڑھنا پڑے جس کے تمام ٹیچر تمہاری دشمن قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔
انسان پیدائشی طور پر ہر صلاحیت لے کر آتا ہے، مگر ان صلاحیتوں کو صحیح طور پر عمل میں لانے کے لیے علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ علم آدمی کو باشعور بناتا ہے۔ علم آدمی کو اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال سکھاتا ہے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کی دنیا سے واقفیت حاصل کرے۔
علم کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی کتابوں کی صورت میں پچھلے انسانوں کے تجربات پڑھے، وہ تاریخ کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے واقف ہو۔ علم کے بغیر آدمی محدود ہے۔ علم حکمت و معرفت کا خزانہ ہے۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 248۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.