Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Khudaee nizaam

Urdu · 4 min

خدائی نظام۔ وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ الشورہ 30۔ اور جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے، تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے ہے، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ آدمی جب بھی دنیا میں کسی مصیبت سے دوچار ہوتا ہے، تو وہ اس کے اپنے ہی کسی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔

اس دنیا میں کسی دوسرے کی زیادتی کی شکایت کرنا بے معنی ہے۔ جب ہر آدمی خود اپنے کیے کو بھگت رہا ہو، تو دوسرے کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنا صرف وقت ضائع کرنا ہے، کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ قدرت کا بنایا ہوا نظام ہے، اور اس نظام میں ہمارے لیے خوشخبری ہے۔ وہ ہمارے لیے عظیم الشان امید کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس قدرتی نظام نے ہمارے مسائل کے حل کو خود ہمارے اپنے ہاتھ میں دے دیا۔ ہم کو اس کا محتاج نہیں کیا کہ ہم کسی دوسرے کی مہربانی کا انتظار کریں۔ کوئی آدمی جن مسائل سے دوچار ہو، اگر اس کا سبب کچھ دوسرے لوگ ہوتے، تو گویا کہ ہم دوسروں کے اوپر निर्भर ہوتے۔ ہمیں دوسروں کی عنایت کا انتظار کرنا پڑتا۔

مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی دنیا کا نظام اس طرح بنایا کہ یہاں ہر آدمی کا معاملہ اس کے اپنے ہاتھ میں رکھ دیا۔ یعنی ہر آدمی اپنی ہی کوشش سے اپنی زندگی کی تعمیر کر سکے۔ ہر آدمی کا مستقبل خود اس کے اپنے اختیار میں ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی نادانی کی بنا پر نقصان اٹھاتا ہے۔

ایسے لوگ دوبارہ دانشمندی کا طریقہ اختیار کر کے اپنے آپ کو نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ کبھی کسی کا معاملہ غیر منصوبہ بند انداز میں کام کرنے کی وجہ سے بگڑ جاتا ہے۔ اس کے لیے موقع ہے کہ آئندہ وہ منصوبہ بند انداز میں کام کر کے اثرِ نو اپنے معاملے کو درست کر لے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بے صبری کی روش کو اپنا کر آدمی مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔

اب اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ صبر کی روش کو اپنا کر دوبارہ اپنے آپ کو مصیبتوں سے بچا لے۔ کبھی کچھ لوگ جذباتی اقدام کر کے اپنے کو بربادی میں ڈال دیتے ہیں۔ ان کے لیے موقع ہے کہ وہ حقیقت پسندی کے اصول پر چل کر دوبارہ کامیابی کی منزل تک پہنچ جائیں۔ اسلام ایک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 243۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.