Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Hikmat-e-hayaat

Urdu · 4 min

حکمتِ حیات: صلح اپنا حق وصول کرنے کے لیے نہیں ہوتی؛ صلح فریقِ ثانی کے شر سے بچنے کے لیے ہوتی ہے۔ فریقِ ثانی اگر عادل ہو تو کسی صلح کی ضرورت ہی نہیں، وہ صلح کے بغیر ہی آپ کو آپ کا پورا حق دے دے گا۔ مگر جب فریقِ ثانی غیر عادل ہو تو وہ آپ کو الجھا کر آپ کو اپنی تعمیر کے راستے سے ہٹا دینا چاہے گا۔ اس وقت خدا پرست آدمی اپنے حریف سے خود اس کی شرائط پر صلح کر لیتا ہے، تاکہ وہ اپنے دامن کو بے فائدہ الجھاؤ سے بچا لے اور اپنے تعمیری عمل میں مصروف ہو جائے۔

جو لوگ اس راز کو نہیں جانتے، وہ صلح کے وقت اپنے حقوق کی فہرست بنانے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور اصرار کرنے لگتے ہیں کہ ان کے جائز حقوق انہیں لوٹائے جائیں۔ اس قسم کی کوشش صلح کی راہ میں مستقل رکاوٹ ہے۔ اس طرح کی کوشش صرف معاملے کو الجھاتی ہے، وہ صلح کو تکمیل تک پہنچنے نہیں دیتی۔ یہ دنیا دارالامتحان ہے؛ وہ غیر عادل انسانوں سے اس طرح بھری ہوئی ہے جس طرح کوئی کانٹے دار درخت کانٹوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔

ایسی دنیا میں آدمی کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ غیر عادل انسانوں سے معاملاتی الجھاؤ کی نوبت نہ آنے دے، ان سے دور کا تعلق رکھتے ہوئے اپنی زندگی کا راستہ طے کرتا رہے۔ لیکن اگر کبھی کسی وجہ سے کسی غیر عادل انسان سے معاملاتی نزاع پیدا ہو جائے تو پہلی فرصت میں اس سے صلح کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے۔ آدمی کی ساری توجہ سفر کو دوبارہ بلا رکاوٹ جاری کرنے سے ہونی چاہیے، نہ کہ فریقِ ثانی سے اپنے حقوق کی وصولی کی اصولیابی پر۔ یہ صلح کوئی پسپائی نہیں، یہ بامقصد انسان کا اصول ہے۔

جس آدمی کے سامنے کوئی مقصد نہ ہو، وہی ایسا کر سکتا ہے کہ وہ صلح کو حقوق کی وصولیابی کا عنوان بنائے، اور پھر اس ناقابلِ عمل صلح کے لیے ساری عمر لڑتا رہے۔ اسلام میں صلح کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی۔ صلح کو ہر حال میں خیر بتایا گیا، حتیٰ کہ حدیبیہ کے موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مخالفین سے ان کی ایک طرفہ شرائط پر صلح کر لی۔ اسلام ایک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 242۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.