حکمتِ عمل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عمر کے آخری زمانے میں مدینے سے مکہ جا کر حج کیا۔ اس موقع پر آپ نے وہ مشہور خطبہ دیا جو "خطبۂ حجۃ الوداع" کے نام سے مشہور ہے۔ اس خطبے میں آپ نے اعلان فرمایا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں، کسی سفید فام کو کسی سیاہ فام پر فضیلت نہیں، سوائے دین اور تقویٰ کے۔ اس طرح آپ نے ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کے قدیم رواج کا خاتمہ کر دیا۔
مگر اسی کے ساتھ آپ نے دوسرے موقع پر یہ بھی فرمایا کہ "الائمۃ من قریش" یعنی میرے بعد مسلمانوں کا سیاسی امام قریش میں سے ہوگا۔ یہ دوسرا بیان بظاہر پہلے بیان کے مطابق نہیں، مگر یہ عدم مطابقت کی بات نہیں، بلکہ عملی تقاضوں کی رعایت کرنے کی بات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تنہا نماز میں اتنا لمبا قیام فرمایا کہ آپ کے پاؤں میں سوجن آ گئی۔ دوسری طرف جماعت کی نماز پڑھاتے ہوئے صف کے پیچھے سے کسی بچے کے رونے کی آواز آئی تو آپ نے مختصر سورت پڑھا کر نماز جلد ختم کر دی۔
اس فرق سے مذکورہ معاملے کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب معاملہ تنہا اپنی ذات کا ہو تو مومن کو چاہیے کہ وہ آئیڈیل کو اختیار کرنے کی کوشش کرے، مگر جب اجتماعی معاملہ ہو اور دوسروں کے ساتھ نباہ کرنے کی ضرورت ہو تو اس وقت وہ پریکٹیکل بن جائے۔ اس دوسری صورت میں حالات کے اعتبار سے عملی تقاضوں کی رعایت کی جائے گی، کیونکہ صرف وہی قابلِ عمل ہے۔ ایسے معاملات میں آئیڈیل کو چلانا سرے سے ممکن ہی نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ کی ایک سنت یہ ہے کہ لوگوں سے معاملہ کرتے ہوئے صرف یہ نہ دیکھا جائے کہ آئیڈیل نقطۂ نظر کیا ہے یا معیاری انصاف کیا ہو سکتا ہے۔ اس کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ جن لوگوں کے ساتھ معاملہ پیش آیا ہے، وہ کس درجے کے لوگ ہیں اور حقیقی حالات کا تقاضا کیا ہے۔ اس طرح کا جائزہ لے کر حقیقی صورتحال کے مطابق وہ مسلک اختیار کیا جائے جو عملی طور پر ممکن ہو، نہ کہ وہ مسلک جو بظاہر نظریاتی طور پر درست ہو مگر عملی طور پر اس کو اختیار کرنا ممکن نہ ہو۔ اسلامِ تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 241۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.