منیمم سے آغاز: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم مکے میں 570 عیسوی میں پیدا ہوئے، آپ کی وفات 632 عیسوی میں مدینے میں ہوئی۔ پہلی وحی آپ پر 610 عیسوی میں نازل ہوئی۔ اس وقت مکے میں بہت سے نہایت سنگین قسم کے مسائل تھے، مثلاً مقدس کعبے میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ اجتماعی معاملات کے فیصلے کا مرکز دارالندوہ مشرکوں کے قبضے میں تھا۔
معاشرے میں بدکاری، شراب، جوا جیسے سخت جرائم پھیلے ہوئے تھے۔ ایرانی ایمپائر اور رومی ایمپائر نے عربوں کو اپنے ماتحت کا درجہ دے رکھا تھا، وغیرہ۔ مگر آپ پر جو پہلی وحی اتری، اور جس میں حکم دیا گیا کہ آپ ان حالات میں کیا کریں، اس میں ان مسائل میں سے کسی مسئلے کا ذکر نہیں تھا۔ اور ان کے بارے میں آپ کو کوئی حکم نہیں دیا گیا۔
آپ سے سادہ طور پر صرف یہ کہا گیا: اقرأ باسم ربك الذي خلق، خلق الإنسان من علق، اقرأ وربك الأكرم الذي علم بالقلم، علم الإنسان ما لم يعلم. اس وقت کے مسائل کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ کم سے کم، یعنی منیمم کا حکم تھا۔ مذکورہ مسائل کے بارے میں اگر آپ کو حکم دیا جاتا اور آپ اس کے لیے عمل شروع کر دیتے، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ فوراً گرد و پیش کے لوگوں سے آپ کا شدید ٹکراؤ شروع ہو جاتا۔ منیمم سے آغاز کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ہر قدم منزل کی طرف بڑھنے کے ہم معنی ہوتا ہے، جبکہ زیادہ سے زیادہ کا نتیجہ اکثر حالات میں الٹا برآمد ہوتا ہے۔
کسی بھی معاملے میں کامیاب ہونے کی شرط یہ ہے کہ صحیح مقام سے اس کا آغاز کیا گیا ہو۔ اور صحیح آغاز وہی ہے جو ممکن ہو۔ ممکن سے آغاز ہی دراصل صحیح آغاز ہے۔ اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ منیمم ہمیشہ ممکن ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں میکسیمم سے آغاز ہمیشہ ناممکن اور ناقابلِ عمل۔
منیمم سے آغاز کا مطلب کم سے آغاز نہیں ہے، بلکہ ممکن سے آغاز ہے۔ اسی طرح میکسیمم سے آغاز کا مطلب زیادہ سے آغاز نہیں ہے، بلکہ ناممکن سے آغاز ہے۔ اسلامک تعارف مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 240۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.