درمیانی طریقہ قرآن میں ہے کہ "چلنے میں درمیانی چال اختیار کرو"، سورہ لقمان۔ حدیث میں ہے کہ معاملات میں سب سے بہتر طریقہ درمیانی طریقہ ہے، خیر الأمور أوسطها۔ درمیانی طریقہ اختیار کرنا اسلام کا ایک اہم اصول ہے، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملے میں ہمیشہ ایسا کیا ہے۔ نمازوں میں آپ اکثر درمیانی صورتیں پڑھتے تھے: زیادہ بڑی اور نہ زیادہ چھوٹی۔
اسی طرح تمام عبادات میں آپ ہمیشہ درمیانی انداز اختیار کرتے تھے۔ گفتگو میں آپ نہ بہت زیادہ مختصر بولتے اور نہ بہت لمبا کلام کرتے، بلکہ آپ کا طریقہ دونوں کے درمیان تھا۔ کھانے پینے کے معاملے میں آپ نہ بہت زیادہ شکم سیر ہو کر کھاتے اور نہ فاقہ کشی کی مشقت اختیار کرتے، بلکہ ہلکی خوراک آپ کا طریقہ تھا۔ آپ نے فرمایا کہ کسی سے دوستی کرو تو دوستی میں حد سے نہ گزر جاؤ۔
اسی طرح اگر کسی سے دشمنی ہو جائے تو دشمنی میں بھی ایک حد پر قائم رہو۔ صحابی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ہم کو تکلف اور غلو سے منع فرمایا ہے۔ اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر قسم کے انسانی تعلقات میں اعتدال اور توسط کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ خاندانی زندگی، سماجی تعلقات، اور ملی روابط—ہر جگہ یہی مطلوب ہے کہ ہمیشہ درمیانی انداز اختیار کیا جائے۔
اپنے کمائے ہوئے مال کو خرچ کرنے کے معاملے میں اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اس کو اعتدال کے ساتھ خرچ کرو، نہ تو بالکل بخیل بن جاؤ اور نہ بہت زیادہ فیاض۔ کمانے کے معاملے میں بھی آدمی کو اعتدال کا انداز اختیار کرنا چاہیے، اور اسی طرح اس کو چاہیے کہ وہ جو مال کمائے، اس کو اعتدال کے ساتھ ضروری مدوں میں خرچ کرے۔ اسی طرح وہ تعلقات جن کو بین الاقوامی تعلقات کہا جاتا ہے، اس کے بارے میں بھی یہی طریقہ اختیار کرنا مطلوب ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سرحدی قوتوں کے ساتھ ہمیشہ نارمل تعلق کو برقرار رکھا جائے۔
ہمیشہ یہ کوشش کی جائے کہ ان کے ساتھ تعلق اعتدال کے دائرے میں رہے، اعتدال کی حد سے باہر نہ جانے پائے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 239۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.