چھوٹے شر کا انتخاب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں ایک سنگین مسئلہ وہ تھا جس کو عبداللہ ابن ابی کی صورت میں جانا جاتا ہے۔ وہ قبیلۂ خزرج کا بڑا سردار تھا۔ اسلام کے خلاف وہ اتنا زیادہ بڑا مسئلہ تھا کہ خود اس کا مسلمان بیٹا عبداللہ اس کے قتل کے لیے تیار ہو گیا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قتل نہیں کروایا۔ یہاں تک کہ وہ 9 ہجری، یعنی 630 عیسوی میں اپنی طبعی موت مرا۔
عبداللہ ابن ابی کے معاملے میں صبر و برداشت کی اس غیر معمولی پالیسی کا سبب کیا تھا؟ اس کا سبب یہ تھا کہ عبداللہ ابن ابی کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں تھا۔ اس وقت کی صورتحال بتا رہی تھی کہ یہ صرف زندہ عبداللہ اور مردہ عبداللہ کے درمیان انتخاب کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہاں ایک تیسری شدید تر صورت بھی ہے، اور وہ یہ کہ اگر اس کو قتل کروایا گیا تو یقینی طور پر قبائلی عصبیت جاگ اٹھے گی۔ بہت سے لوگ اس کے خون کا انتقام لینے کے درپے ہو جائیں گے۔
اس طرح عبداللہ ابن ابی کو قتل کر کے عملاً اس کا خاتمہ نہیں ہوگا، بلکہ ایک اور شدید تر برائی جاگ اٹھے گی، اور وہ اپنے مقتول سردار کا انتقام ہے۔ اس اندیشے کی پیشگی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ تھی کہ غزوۂ احد کے موقع پر اس نے جنگ میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا، تو اس کے قبیلے کے 300 آدمیوں نے عبداللہ ابن ابی کے ساتھ شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عبداللہ ابن ابی کے معاملے میں اس وقت جو انتخاب تھا وہ زندہ دشمن اور مردہ دشمن کے درمیان نہیں تھا، بلکہ وہ مردہ دشمن اور اس کے بعد ظاہر ہونے والے انتقامی ردِعمل کے درمیان تھا۔ ایسی حالت میں زندہ دشمن چھوٹا شر تھا، اور مردہ دشمن انتقامی ردِعمل کی صورت میں زیادہ بڑا شر۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے شر سے بچنے کے لیے چھوٹے شر کو گوارا کر لیا۔ زندگی خیر و شر کے درمیان انتخاب کا نام نہیں، زندگی چھوٹے شر اور بڑے شر کے درمیان انتخاب کا نام ہے۔ کامیاب وہ ہے جو اس حقیقت کو جان لے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 238۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.