Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Islam ek Ta'aruf
Islam ek Ta'aruf

Sulh behtar hai

Urdu · 4 min

صلح بہتر ہے۔ قرآن میں عورت اور مرد کے تعلقات کے بارے میں حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بدسلوکی یا بے رخی کا اندیشہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے۔ اور حرص انسان کی طبیعت میں بسی ہوئی ہے، اور اگر تم اچھا سلوک کرو اور خدا ترسی سے کام لو تو جو کچھ تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔ النساء 128۔

صلح بہتر ہے، یعنی الصلح الخير ایک عام فطری اصول ہے۔ اس کا تعلق گھر کے مسائل سے بھی ہے اور بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والے معاملات سے بھی ہے۔ جب بھی کسی فرد یا گروہ کو دوسرے فرد یا گروہ کی طرف سے کوئی ناخوشگوار تجربہ پیش آئے تو ایسے موقع پر عقلمندی یہ ہے کہ اس کے جواب میں ردعمل کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔ ایسے مواقع پر بہتر طریقہ صلح کا ہے، نہ کہ نزاع کا۔

نزاعی امور میں صلح کی پالیسی کوئی پسپائی یا بزدلی نہیں ہے۔ اس کا مقصد دراصل یہ ہے کہ اپنے وقت اور قوت کو بے فائدہ طور پر ضائع کرنے سے بچایا جائے، اور اس کو مفید استعمال کی طرف موڑ دیا جائے۔ صلح کا الٹا رویہ جنگ ہے۔ جنگ یا ٹکراؤ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جہاں دو فریقوں کے درمیان نزاع کی صورت پیش آئی ہے، دونوں فریق بس وہیں ٹھہر جائیں۔

وہ اپنے سفر کو مقام نزاع پر روک دیں۔ اس کے برعکس ایسے معاملات میں صلح کی پالیسی اختیار کرنا آدمی کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنے سفر کو روکے بغیر مسلسل اسے جاری رکھے۔ وہ کسی وقفے کے بغیر چلتا رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی آخری منزل کو پہنچ جائے۔ صلح کا طریقہ وقتی طور پر کھونے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر حال سے نظریں ہٹا کر آنے والے مستقبل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ مکمل طور پر پانے کا طریقہ ہے۔

آخری نتیجے کے اعتبار سے صلح کی پالیسی ہمیشہ کامیابی کا سبب بنتی ہے، اور ٹکراؤ کی پالیسی ہمیشہ تباہی اور ناکامی کا سبب۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 237۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.