اسٹیٹس کوئزم: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے "اسٹیٹس کو" پر راضی ہونا، یعنی نظامی معاملات میں حالتِ موجودہ کو مان لینا۔ حالتِ موجودہ پر راضی رہتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرنا۔ نظامی معاملات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاملہ ایک خاص مقام پر آ کر ٹہر جاتا ہے: ایک طرف فریقِ اول ہوتا ہے اور دوسری طرف فریقِ ثانی۔ نظائی لائن کو پار کرنا دونوں میں سے کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا۔
حالات بتا رہے ہوتے ہیں کہ اگر اسٹیٹس کو، یعنی حالتِ موجودہ کو، بدلنے کی کوشش کی گئی تو دونوں کے درمیان سخت ٹکراؤ ہوگا، اور اس کے نتیجے میں شدید تر برائی سامنے آ جائے گی۔ ایسی حالت میں دانشمندی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ مقامِ نزاع پر جو صورت عملاً بن گئی ہے، اس کو ویسا کا ویسا باقی رکھا جائے، اور اپنی کوششوں کو دوسرے مقاماتِ عمل کی طرف موڑ دیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر جب عمرے کی ادائیگی پر اصرار نہیں کیا، اور وہیں سے مدینہ لوٹ آئے، تو یہ وقتی طور پر "اسٹیٹس کو" کو مان لینے کا واقعہ تھا۔ بعض دوسرے واقعات ایسے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مستقل طور پر اسٹیٹس کو پر راضی ہو گئے۔
اس کی نمایاں مثال کعبے کو بنائے مشرکین پر باقی رکھنا، اور اس کو دوبارہ بنائے ابراہیم پر تعمیر نہ کرنا ہے۔ یہ طریقہ نظائی معاملات میں بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ آدمی کی طاقت کا ہر جز صرف تعمیری کام میں خرچ ہو: ایک آدمی اپنی سواری دوڑاتا ہو، ایک آدمی اپنی سواری دوڑاتا ہوا ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں سڑک بند ہو، تو وہ بند سڑک سے نہیں ٹکراتا، بلکہ اپنی سواری کو موڑ کر دوسرے راستے سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا ہے۔ اسی حکمت کا نام اسٹیٹس کوئزم ہے۔
حالتِ موجودہ کو مانتے ہی آدمی کو فوراً اپنے عمل کا آغاز مل جاتا ہے، اور اپنے عمل کے لیے صحیح نقطۂ آغاز کو پا لینے ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 236۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.