کامیاب تجارت۔ صہیب رومی ایک صحابی تھے، ہجرت کے موقع پر وہ مکے سے مدینہ جانے لگے تو ان کے پاس کچھ سونے کا سکہ، یعنی دینار تھا۔ وہ باہر نکلے تو مکے کے کچھ نوجوان انہیں ملے۔ بات چیت کے بعد انہیں معاملے کا اندازہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم تم کو سونا لے کر مدینہ نہیں جانے دیں گے۔
صہیب رومی نے کہا کہ میں تم کو یہ سونا دے دوں تو کیا تم مجھ کو یہاں سے جانے دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ صہیب رومی نے فوراً سونا نکال کر انہیں دے دیا اور مدینہ روانہ ہو گئے۔ وہ مدینہ پہنچے تو سب سے پہلے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور مکے میں پیش آنے والا یہ واقعہ آپ کو بتایا۔
آپ نے اس کو سن کر فرمایا کہ اے صہیب! تمہاری تجارت کامیاب رہی۔ اس واقعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم سنت معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ اگر کسی سے نزاع کی صورت پیدا ہو جائے اور کچھ مادی نقصان اٹھا کر نزاع ختم ہو سکتی ہو، تو مادی نقصان برداشت کرتے ہوئے فوراً نزاع کو ختم کر دیا جائے۔ یہ طریقہ بظاہر نقصان کا طریقہ دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقتاً وہ زبردست نفع کا طریقہ ہے۔
اس میں آدمی تھوڑی چیز دے کر زیادہ بڑی چیز پا لیتا ہے۔ مذکورہ واقعے میں ایک طرف چند دینار تھے اور دوسری طرف ایک انسان کا اپنا وجود۔ انسان کا اپنا وجود بہرحال چند دینار سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔ اس لیے چند دینار دے کر اگر ایک انسان کی زندگی محفوظ ہو جائے تو یہ نفع کی تجارت ہے، نہ کہ گھاٹے کی تجارت۔
نزاع کو جاری رکھنے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ پیش قدمی کا عمل رک جاتا ہے۔ اور اگر نزاع کو ختم کر دیا جائے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پیش قدمی کا عمل جاری رہے گا۔ اور پیش قدمی کا جاری رہنا اس سے ہزار گنا زیادہ بہتر ہے کہ ایک نزاع کی خاطر پیش قدمی کا عمل روک دیا جائے۔ اسلامک تعارف، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 233۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.